امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز

جنیوا(آئی پی ایس ) امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا دوسرا اہم دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہو گیا۔یہ مذاکرات عمانی سفارت خانے میں منعقد ہوں گے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث انہیں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی مشرقِ وسطی کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر سے بالواسطہ مذاکرات کریں گے۔

یہ رابطہ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد کے ذریعے ہوگا۔امریکا کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار ایران کے میزائل پروگرام سمیت دیگر غیر جوہری معاملات تک بھی بڑھایا جائے۔تہران کا موقف ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر بات کرے گا اور یورینیم کی صفر افزودگی (زیرو انریچمنٹ) قبول نہیں کرے گا۔

مذاکرات سے ایک روز قبل عباس عراقچی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کی، جس میں جوہری ماہرین کے ساتھ تکنیکی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں عسکری تیاریوں میں اضافہ اور ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس سے ان بات چیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہیلتھ سروسز اکیڈمی کیس: ترجمان صدر مملکت کی وضاحت، افواہیں مسترد ہیلتھ سروسز اکیڈمی کیس: ترجمان صدر مملکت کی وضاحت، افواہیں مسترد قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 مقدمات میں عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا بانی پی ٹی آئی کو ڈیل دی جا رہی ہے نہ ڈھیل، تمام باتیں قیاس آرائیاں ہیں: عطا تارڑ محسن نقوی نے ہمیشہ کوشش کی بانی پی ٹی آئی کو رہائی مل جائے: علی امین گنڈا پور سری لنکن صدر کا پاکستانیوں کے لیے ویزا مشکلات فوری ختم کرنے کا حکم صدر و وزیراعظم کی نئے چینی سال پر مبارکباد، تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مذاکرات کا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران