حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے، پشاور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پشاور ہائی کورٹ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو فوری طور پر سڑکیں کھلوانے کا حکم دے دیا۔
سڑکوں کی بندش سے متعلق سماعت جسٹس اعجاز انور نے کی اور کہا کہ چوتھا روز ہے، سڑکیں بند ہیں، صوبے کے عوام کو شدید مشکلات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ جان سے جا رہے ہیں، حکمران جماعت اپنے ہی صوبے کے لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے، آج ہی سڑکیں کھولیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے کہا ہے کہ ہمارے مینڈیٹ پر قابض ہوکر یہ ہمیں جمہوریت سکھا رہے ہیں۔
جسٹس اعجاز انور نے مزید کہا کہ پشاور سے کوئی باہر نہیں جاسکتا، کل ان کے بچے نکلے اور واپس آگئے کہ سڑکیں بند ہیں، صوبے میں دہشت گردی ہے، لوگوں پر رحم کریں۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ ایم پی ایز اسلام آباد سپریم کورٹ کا حکم منوانے گئے ہیں، کسی غلط چیز کو ڈیفنڈ نہیں کر رہے ہیں۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ بطور ایڈووکیٹ جنرل احتجاج کی حمایت کرتے ٹھیک نہیں لگتے، پارٹی کو چھوڑیں، پشاور کے شہری بنیں۔
آئی جی اور چیف سیکریٹری نے کہا کہ انہیں 2 دن دیں، وہ رپورٹ جمع کراتے ہیں۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ 2 دن نہیں، آج سے سڑکیں کھولیں، یقینی بنائیں کہ کسی صورت موٹر وے بند نہیں کرنے دیں گے، آج کے بعد کوئی بھی سڑک بالخصوص پشاور میں بند نہیں ہونی چاہیے۔
آئی جی پولیس کی عدالت کو آج ہی سڑکیں کھلوانے کی یقین دہانی کے بعد سماعت ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔