بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشت گرد تنظیم ہے: امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشت گرد تنظیم ہے: امریکی جریدہ People mourn the death of their relatives following a suicide bombing at a Shiite mosque, outside a hospital in Islamabad on February 6, 2026. A suicide bombing at a Shiite mosque in Pakistan's capital Islamabad killed at least 31 people on February 6, local authorities said, with a police source saying more than 130 were wounded.
اسلام آباد(آئی پی ایس ) امریکی سابق فوجی افسر و دفاعی تجزیہ کار جو بوکینو کی بلوچستان لبریشن آرمی پر تحقیق سامنے آئی ہے۔دی ریئل کلیئر ورلڈ میں اہم انکشافات ہوئے ہیں جس کے تحقیقی آرٹیکل میں بی ایل اے کو محض علیحدگی پسند نہیں بلکہ منظم اور سنگین دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کی رائے کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کو صرف علیحدگی پسند تحریک کہنا فرسودہ اور غلط تصور ہے جو سیاسی محرومیوں سے جنم لینے والی تحریک سے بدل کر جدید طرز کی دہشت گرد تنظیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بی ایل اے کا ہدف عام شہری اور قومی انفراسٹرکچر پر دانستہ حملے اِس کی حکمت عملی کا حصہ ہے،خوف، عدم استحکام اور ریاستی کمزوری پیدا کرنا بی ایل اے کا بنیادی طریقہ کار بن چکا ہے۔امریکی تجزیہ کار کا کہنا تھاکہ بی ایل اے بلوچ عوام کی حقیقی امنگوں اور زمینی حقائق سے کٹ چکی ہے، بلوچ عوام کی ترجیح علیحدگی نہیں بلکہ روزگار، بہتر طرز حکمرانی، بدعنوانی کا خاتمہ اور امن ہے، سرویز میں علیحدگی کی حمایت نہ ہونے کے برابر اور اکثریت خود کو پاکستانی شناخت سے جوڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے چینی کی اصل وجوہات سیاسی شمولیت کی کمی اور کمزور نمائندگی ہے، مرکزی دھارے کے بلوچ رہنما آئینی و سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی جب کہ بی ایل اے عوام سے دور ہے، بی ایل اے کی حکمت عملی میں تبدیلی، خودکش حملے اور ہمہ جہت دہشت گردی پر فوکس ہے۔تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ٹرین ہائی جیکنگ، بیک وقت کئی شہروں میں حملے اور اہم تنصیبات کی تباہی، خطرناک رجحان ہے، شہری مقامات، بسیں، تعلیمی ادارے اور عام لوگ بھی بی ایل اے کے نشانے پر ہیں،بی ایل اے عسکریت اور جرائم کا امتزاج ہے، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیاں فنڈنگ کے ذرائع ہیں۔
اِسی طرح بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف گروہوں کے درمیان عملی تعاون، دہشت گرد نیٹ ورک کا پھیلا ظاہر کرتا ہے، چینی شہریوں، بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ روٹس اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانا، پاکستان کے خلاف معاشی جنگ کا پہلو واضح کرتا ہے۔امریکی جریدہ ریئل کلیئر ورلڈ کا مضمون میں مزید یہ بھی لکھا گیا کہ سرحد پار محفوظ ٹھکانے، اسلحہ اور بیرونی انٹیلی جنس سپورٹ، بیرونی کردار کے شواہد ہیں، بی ایل اے کی کارروائیاں بلوچ عوام کے جائز مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں، پاکستان میں بی ایل اے علیحدگی پسند تحریک سے زیادہ خطرناک ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان نے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روک دیا: ترک جریدہ پاکستان نے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روک دیا: ترک جریدہ امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہیلتھ سروسز اکیڈمی کیس: ترجمان صدر مملکت کی وضاحت، افواہیں مسترد قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 مقدمات میں عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا بانی پی ٹی آئی کو ڈیل دی جا رہی ہے نہ ڈھیل، تمام باتیں قیاس آرائیاں ہیں: عطا تارڑ محسن نقوی نے ہمیشہ کوشش کی بانی پی ٹی آئی کو رہائی مل جائے: علی امین گنڈا پورCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علیحدگی پسند بی ایل اے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔