تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن قرار دیدیا، حکومت سے 4 اہم مطالبات
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی حالیہ پریس کانفرنس کو گمراہ کن، حقائق کے منافی اور عوام کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش قرار دے دیا۔
تحریک نے کہا ہے کہ ریاستی منصب پر فائز ہو کر سچ کو مسخ کرنا اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے اور آئینی ذمہ داریوں سے کھلی روگردانی کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، علاج کی ہر سہولت دی جا رہی ہے، محسن نقوی
تحریک کا کہنا ہے کہ حکومت سابق وزیراعظم عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پردہ ڈالنے کے لیے من گھڑت بیانیہ تیار کر رہی ہے۔ قوم کو اصل حقائق سے محروم رکھ کر سیاسی تماشہ لگانا ناقابلِ قبول ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے واضح کیاکہ طبی معائنے کے دوران سرکاری ڈاکٹروں پر عدم اعتماد اور ذاتی معالج کی موجودگی کی شرط کوئی انفرادی ضد نہیں بلکہ فیملی، پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور تحریک کی باہمی مشاورت سے کیا گیا متفقہ فیصلہ ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق صرف ان کی فیملی کو حاصل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کو طویل اور بدترین قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ پہلے ہی حراست کو غیرقانونی قرار دے چکا ہے۔
’عدالتوں کو جیل کے اندر منتقل کر کے عوام، میڈیا، فیملی اور پارٹی رہنماؤں کی رسائی تقریباً ختم کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان کی ذاتی معالج سے آخری ملاقات نومبر 2024 میں ہوئی، فیملی سے ملاقات ڈھائی ماہ سے معطل ہے اور سیاسی رفقا سے ملاقات کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے بہترین سہولیات کا دعویٰ حقیقت کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔
مزید پڑھیں: بشریٰ بی بی سے فیملی ممبران کو ملاقات کرنے کی اجازت مل گئی
اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیملی اور قانونی ٹیم سے ملاقاتیں بحال کی جائیں، جبکہ قیدِ تنہائی کا خاتمہ کیا جائے، اور شفاف و کھلی عدالتی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قوم سب دیکھ رہی ہے اور سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، دفن نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، ان کو جیل میں ہرممکن سہولیات دی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پریس کانفرنس گمراہ کن قرار تحریک تحفظ آئین پاکستان محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس گمراہ کن قرار تحریک تحفظ ا ئین پاکستان محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ وی نیوز پریس کانفرنس عمران خان کی پاکستان نے محسن نقوی کیا گیا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔