اسٹروائیڈز بڑے پیمانے پر زمین پر تباہی مچا سکتے ہیں، ناسا کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ناسا نے زمین کو خطرناک ایسٹروائیڈز سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا ہے، جو ممکنہ طور پر عالمی سطح پر تباہی مچا سکتے ہیں۔
ناسا کے عبوری پلانٹری ڈیفنس افسر کیلی فاسٹ نے بتایا کہ دنیا میں ایسے تقریباً 15 ہزار درمیانے سائز کے شہر تباہ کرنے والے پتھروں کا پتا نہیں ہے۔ یہ پتھر کم از کم 140 میٹر قطر کے ہیں اور اگر زمین سے ٹکرا جائیں تو بڑے پیمانے پر تباہی مچاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہاب ثاقب نے اچانک اپنے مدار میں الٹا گھومنا شروع کردیا، ماہرین فلکیات حیران
فاسٹ نے امریکی ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنس کی سالانہ کانفرنس میں کہا، ’تخمینہ ہے کہ ایسے 25 ہزار ایسٹروائیڈز ہیں اور ہم صرف 40 فیصد تک تلاش کرسکے ہیں۔ بہترین ٹیلی سکوپ کے باوجود انہیں ڈھونڈنا وقت لیتا ہے۔’
مزید خطرناک بات یہ ہے کہ اگر یہشہر تباہ کرنے والےایسٹروائیڈ زمین کی طرف آئیں تو ابھی زمین کے پاس انہیں روکنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں، جیسا کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی کی سیاروی سائنسدان ڈاکٹر نینسی چیبوٹ نے انتباہ کیا۔
انہوں نے کہا، ’ہم ان شہر تباہ کرنے والے ایسٹروائیڈز کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘ پچھلے سال وائی آر4 نامی ایک ایسٹروائیڈ کی زمین سے ٹکرانے کی ممکنہ پیشگوئی نے ماہرین فلکیات کو خبردار کر دیا تھا۔ خوش قسمتی سے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ زمین سے دور جارہا ہے، لیکن 2032 میں یہ زمین کے راستے میں آسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کو سورج کی تپش سے بچانے کے لیے دیو ہیکل چھتری خلا میں بھیجنے کی تیاریاں
ڈاکٹر چیبوٹ کے مطابق، اگر یہ ایسٹروائیڈ چاند سے ٹکرائے تو اس کا اثر اتنا شدید ہوگا کہ زمین سے نظر آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ‘اگر وائی آر4 جیسے کوئی ایسٹروائیڈ زمین کی طرف آتا، تو ہمارے پاس اس کو روکنے کا کوئی فعال طریقہ نہیں تھا۔ ہم اس خطرے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایسٹروائیڈز بڑے پتھر چاند زمین سورج ناسا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایسٹروائیڈز بڑے پتھر چاند
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔