پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے عمران خان کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کی۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ معاملہ صرف یہ ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ اصل صورتحال سامنے آئے۔

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ ڈاکٹر عاصم یوسف عمران خان کے ذاتی معالج ہیں اور پہلے بھی پانچ مرتبہ طبی معائنہ کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بیرسٹر سلمان صفدر کی فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق آنکھ میں مسئلہ موجود تھا، لیکن سرکاری رپورٹ میں بہتری بتائی گئی، جس کی حقیقت جاننے کے لیے ذاتی معالج کی رسائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم تمام قانونی راستے اختیار کررہے ہیں اور عدالتوں میں بھی جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس کے نوٹس کے بعد عمران خان نے بچوں سے بات کی، اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ معاملہ آگے بڑھے اور ذاتی معالج سے ملاقات ممکن ہو۔

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ سلمان صفدر نے عمران خان کی ملاقات بطور فرینڈ آف کورٹ کی تھی، اور ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی نے بائیں آنکھ بند کر کے دیکھا تو کہاکہ سلمان، مجھے آپ کا چہرہ نظر نہیں آیا۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہاکہ ذاتی معالج کو رسائی نہ دینا اس معاملے کو ابہام میں رکھنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہاکہ قاسم زمان خاندان کا فرد ہیں، اور ہم نے ڈاکٹر عامر اعوان اور ڈاکٹر مظہر اسحاق کے نام پیش کیے تھے، تاہم بتایا گیا کہ یہ نام قابل قبول نہیں ہیں۔

بیرسٹر سلمان اکرم نے واضح کیاکہ یہ ڈاکٹرز اچھی شہرت کے حامل ہیں اور عمران خان کی صحت کی درست تشخیص کے لیے ان کی رسائی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ملاقات کے لیے ہم حاضر ہیں جبکہ باقی ساتھی پارلیمنٹ اور کے پی ہاؤس میں ہیں اور شام کو مزید مشاورت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بانی پی ٹی آئی صحت پر سیاست عمران خان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی صحت پر سیاست وی نیوز سلمان اکرم راجا انہوں نے کہاکہ عمران خان کی ذاتی معالج ہیں اور کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا