پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ قابل تشویش ہے، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ماہ مبارک رمضان سے چند روز قبل اس طرح کے اقدامات مافیاز کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو بڑھانے کا جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے جاری کردہ بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدامات عوام دشمن ہیں۔ حکومت ایک مہینے میں دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ جس سے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات، بلکہ اس سے جڑی ہر چیز مسلسل مہنگی ہو رہی ہے، اور بلآخر سارا بوجھ عوام پر ہی آتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں نے پہلے ہی عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑتا ہے۔ حکومت کے ان فیصلوں سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور غربت کی چکی میں پسنے والے عوام غریب سے غریب تر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ملکی معیشت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ماہ مبارک رمضان سے چند روز قبل اس طرح کے اقدامات مافیاز کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو بڑھانے کا جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ ماہ مبارک کے دوران اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بنیں گے۔ حکومت کے ایسے اقدامات ماہ مبارک میں مہنگائی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا مزید گیا کہ ایک طرف حکمران مراعات اور سہولیات کے مزے لوٹ رہے ہیں، تو دوسری طرف وفاقی حکومت ٹیکسز کا بھاری بوجھ پیٹرولیم مصنوعات کے ذریعے عوام پر ڈال رہی ہے۔ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ متوسط طبقہ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ پالیسیوں اور فیصلہ سازی کے دوران عوام الناس کے بارے میں نہیں سوچا جاتا، جس کے منفی نتائج نکلتے ہیں۔ حکومت عوام الناس پر اضافی ٹیکسز سے گریز کرے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت عوام الناس کی اشیائے ضروریہ، بلخصوص پیٹرول کی قیمتوں کو قابو میں رکھتے ہوئے انہیں عوام الناس کی دسترس میں رکھے۔ حکومت ہر پالیسی اور ہر فیصلے کے دوران عوام الناس کو مدنظر ضرور رکھے، کیونکہ غلط فیصلوں کے نتائج عوام الناس کو بھگتے پڑتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں میں کہا عوام الناس ماہ مبارک کہا گیا گیا کہ
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں