جنوبی افریقہ ماڈل، کے الیکٹرک پری پیڈ میٹرنصب کرے، قائمہ کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو ساؤتھ افریقہ ماڈل کے طرز پر پری پیڈ میٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی ہدایت کر دی ۔ پراپرٹی کے بجائے شناختی کارڈ پر بجلی کنکشنز فراہمی کی سفارش کی گئی ہے۔ کے الیکٹرک نے کراچی میں بجلی چوری روکنے اور ریکوری کے لیے رینجرز کی خدمت بھی حاصل کر لی ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے کے الیکٹرک کو بجلی چوری و نقصانات روکنے اور ریکوری میں بہتری کے حوالے سے اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ دستیاب دستاویز کے مطابق کمیٹی نے کے الیکٹرک کو ریکوری میں بہتری کے لیے جنوبی افریقہ کے طرز پر پری پیڈ میٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی سفارش کی ہے ۔ کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ کراچی میں بجلی چوری و نقصنات میں کمی اور ریکوری بہتر بنانے کے لیے رینجرز کی خدمت حاصل کر لی ہیں۔
قومی اسمبلی کی توانائی کمیٹی نے چوری روکنے کے لیے ایف آئی اے اور رینجرز کی معاونت کی سفارش کی تھی ۔ تحریری طور پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی مدد سے گیارہ ایف آئی آرز درج کی جا چکیں۔ ترمیمی ضابطہ فوجداری قانون دوہزار تئیس کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دستاویز کے مطابق کمیٹی نے کے الیکٹرک کو صوبائی حکومت سے واجبات کی وصولی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی ۔ یہ بھی کہا کہ صارفین سے بل لینا ہے تو بجلی فراہمی کو سو فیصد یقینی بنایا جائے ۔ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے عوامی نمائندوں سے رائے لینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کے لیے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔