کراچی ایئرپورٹ، دہری شہریت کی حامل خاتون مسافر سے 6 کلوگرام چاندی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ہر چاندی کے بسکٹ کا وزن ایک کلو گرام ہے، برآمد شدہ چاندی کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کسٹمز نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہری شہریت کی حامل خاتون مسافر سے 6 کلو گرام چاندی برآمد کرلی۔ ترجمان پاکستان کسٹمز کے مطابق دہری شہریت کی حامل خاتون دبئی سے غیرملکی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مسافر کی باڈی سرچنگ کے دوران 6 چاندی کے بسکٹس برآمد ہوئے اور ہر چاندی کے بسکٹ کا وزن ایک کلو گرام ہے۔ ترجمان کسٹمز نے بتایا کہ برآمد شدہ چاندی کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے ہے، تاہم سامان ضبط کرکے کسٹمز ایکٹ 1969ء کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔