جیل سے رہائی کے بعد راجپال یادیو کا پہلا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کے معروف مزاحیہ اداکار راجپال یادیو کو دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے عارضی ضمانت ملنے کے بعد تہاڑ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
جیل سے رہائی کے بعد راجپال یادیو نے میڈیا سے گفتگو میں پہلی بار اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مداحوں اور عدالت کا شکریہ ادا کیا۔
راجپال یادیو کو تقریباً 9 کروڑ بھارتی روپوں کے چیک باؤنس اور قرض کے تنازعے کے سلسلے میں قید بھگتنا پڑی تھی، جس میں اداکار نے دسمبر 2025 میں عدالت میں پیش آنے کے بعد خود کو تہاڑ جیل کے حوالے کیا تھا۔
عدالت نے ان کے خلاف مقدمہ سننے کے بعد انہیں 18 مارچ 2026 تک کےلیے عارضی ضمانت دے دی ہے، جس کے تحت انہیں مکمل مقدمے کا فیصلہ سننے تک رہا رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔
رہائی کے بعد راجپال یادیو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا 30 سالہ فلمی کیریئر 2027 میں مکمل ہوجائے گا، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس فلمی کیریئر کے دوران پورا ملک اور بالی ووڈ ان کے ساتھ رہا، جس کی وجہ سے وہ تقریباً 200 سے 250 فلموں میں کام کرسکے۔ اداکار نے کہا ’’اگر مجھے کسی الزام کا سامنا کرنا پڑا ہے تو میں اس کا جواب بھی دوں گا اور عدالت میں پوری طرح پیش ہوں گا۔‘‘
VIDEO | Cheque bounce case: After being released from Tihar Jail in Delhi, actor Rajpal Yadav (@rajpalofficial) says, "If you want to get any legal information, you can ask my advocate, but I want to say that my 30 years in Bollywood is going to complete in 2027, everyone was… pic.
عدالت نے عارضی ضمانت دیتے ہوئے راجپال یادو سے کچھ مالی اور قانونی شرائط بھی منسلک کی ہیں، جیسے کہ پاسپورٹ عدالت کے سپرد کرنا اور اگلی سماعت میں ذاتی یا ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت ضروری قرار دینا۔ عدالت نے یہ ضمانت 18 مارچ 2026 تک برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، جب بطور مدعی رقم کی باقی ادائیگی یا تنازعے کا حتمی فیصلہ سنا جائے گا۔
یاد رہے کہ یہ کیس 2010 میں راجپال یادیو کی فلم ’’اتا، پتا، لاپتا‘‘ کی مالی معاونت کےلیے لیے گئے 5 کروڑ روپے قرض سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد وہ اس رقم کی ادائیگی میں ناکام رہے اور چیک باؤنس کے تحت قانونی کارروائی کا شکار ہوئے۔ عدالتوں میں طویل قانونی جدوجہد کے بعد اس رقم پر سود اور مزید ذمے داریاں بڑھتے ہوئے کل 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھیں۔
راجپال یادیو کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں بالی ووڈ فنکاروں نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ معروف اداکار سونو سود سمیت متعدد ساتھیوں نے انہیں حوصلہ دیا اور مدد کی پیشکش بھی کی، جس سے ان کی مشکلات میں کمی آئی۔
اب عدالتی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن اداکار کی رہائی نے انہیں دوبارہ فلمی محاذ پر واپس لوٹنے کی امید دی ہے اور انہیں قانونی معاملات کو حل کرنے کا موقع بھی ملا ہے، جس کے تحت وہ اپنے مداحوں کے سامنے اپنی بات رکھ سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راجپال یادیو کے بعد
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :