کپل سبل نے کہا کہ حراستی اتھارٹی نے نہ صرف غیر متعلقہ مواد بلکہ ایسے مواد پر بھی انحصار کیا جو سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے معاملے میں مودی حکومت سے ویڈیوز کے مستند اور درست ٹرانسکرپٹس پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں ترجمہ کم از کم 98 فیصد درست ہونا چاہیئے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورا لے پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج سے کہا کہ عدالت کو وہی اصل ٹرانسکرپٹ درکار ہے جس پر حراستی حکم کی بنیاد رکھی گئی۔ بنچ نے واضح کیا کہ حکومت جس مواد پر انحصار کر رہی ہے اور جس کا حوالہ دفاعی وکیل دے رہے ہیں، دونوں میں واضح فرق ہے، لہٰذا درست متن پیش کیا جانا ضروری ہے۔

سینیئر وکیل کپل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ سونم وانگچک سے منسوب بعض جملے انہوں نے کہے ہی نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تین منٹ کی تقریر کا ترجمہ سات سے آٹھ منٹ تک پھیلا ہوا ہے، جو خود اس کی صحت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ حراستی اتھارٹی نے نہ صرف غیر متعلقہ مواد بلکہ ایسے مواد پر بھی انحصار کیا جو سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ بنچ نے کہا کہ ہمیں اصل تقریر کا مستند ٹرانسکرپٹ چاہیے۔ جو وہ کہہ رہے ہیں اور جو آپ پیش کر رہے ہیں، اس میں فرق ہے۔ فیصلہ ہم کریں گے، لیکن ترجمہ درست ہونا چاہیئے۔ عدالت نے جودھپور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ 29 ستمبر 2025ء کو وانگچک کو فراہم کی گئی پین ڈرائیو کو ان کی موجودگی میں کپل سیل کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ راجستھان کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو اس حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کپل سبل نے مزید کہا کہ سونم وانگچک کو 29 ستمبر کو حراست کی وجوہات فراہم کی گئیں، تاہم جن چار ویڈیوز پر انحصار کیا گیا، وہ پین ڈرائیو میں شامل نہیں تھیں۔ اس حوالے سے سونم وانگچک نے متعلقہ حکام کو متعدد نمائندگی بھی کی۔ یہ سماعت سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو کی جانب سے دائر درخواست پر ہو رہی ہے، جس میں نیشنل سیکوریٹی ایکٹ کے تحت وانگچک کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ مودی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ حراست کے دوران وانگچک کا 24 مرتبہ طبی معائنہ کیا گیا اور وہ "مکمل طور پر صحت مند" ہیں۔ مزید سماعت جمعرات کو ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سونم وانگچک کپل سبل نے وانگچک کی کہا کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد