کیا کچھ وقفوں کے لیے کھانا چھوڑنا وزن کم کرنے میں مؤثر ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا موٹاپے یا وزن زیادہ ہونے والے افراد کے لیے وزن کم کرنے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
ایک نئی تحقیق کے مطابق ہفتے کے کچھ دن محدود کھانے اور باقی دن معمول کے مطابق کھانے کی پریکٹس وزن کم کرنے یا زندگی کے معیار میں بہت فرق نہیں ڈال سکتی۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا جسمانی نظام کے کچھ افعال میں مثبت تبدیلیاں لا کر مجموعی صحت بہتر کر سکتا ہے اگرچہ اس کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔
وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کی مثالیں5:2 ڈائیٹ (ہفتے کے 2 دن محدود کھانا)
روزانہ تقریباً 8 گھنٹے کے محدود وقت میں کھانا
ہر دن مقررہ وقت کے دوران کھانا
دنوں کے درمیان کھانے کی مقدار بدلنا (کچھ دن زیادہ اور کچھ دن کم)
تحقیق کے دوران 22 پچھلی مطالعات کے نتائج دیکھے گئے جن میں تقریباً 2,000 بالغ افراد شامل تھے۔ مقصد یہ تھا کہ معلوم کیا جا سکے کہ چھوٹے عرصے کے وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے (12 ماہ تک) وزن کم کرنے میں معمولی غذائی مشورے یا بغیر مشورے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیے: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟
نتائج کے مطابق روایتی غذائی مشورے جیسے کیلوری کم کرنا اور صحت مند کھانا کھانا، وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہیں جبکہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے نے وزن یا زندگی کے معیار میں بہت فرق نہیں ڈالا۔
محققین کے تبصرےتحقیق کے مرکزی مصنف لویس گیریگنانی نے کہا کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا کچھ افراد کے لیے مناسب آپشن ہو سکتا ہے لیکن موجودہ شواہد سوشل میڈیا پر چلنے والی مقبولیت کو جواز نہیں دیتے۔
سینیئر مصنف ایوا میڈرڈ نے کہا کہ ہر فرد مختلف ہوتا ہے اور بعض افراد کو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کو ہر موٹاپے والے بالغ کے معاملے میں کیس ٹو کیس مشورہ دینا ہوگا۔
تحقیق کی حدودزیادہ تر مطالعات میں کم افراد شامل تھے اور سخت طریقہ کار استعمال نہیں ہوا۔
وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کے مختلف اقسام کے اثرات مرد و خواتین، مختلف بی ایم آئی والے افراد اور مختلف ممالک میں الگ ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟
مزید تحقیق درکار ہے کہ یہ طریقہ ذیابیطس ٹائپ 2 اور دیگر صحت کے مسائل پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرین کا نقطہ نظریونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر باپٹسٹ لیوراں نے کہا کہ مجموعی طور پر مطالعات ظاہر کرتی ہیں کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا زیادہ فائدہ نہیں دیتا۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ پروفیسر کیتھ فریں نے کہا کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کو وزن کم کرنے کا آسان طریقہ کے طور پر فروغ دیا گیا لیکن یہ دعوے زیادہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موٹاپے کے لیے کوئی ‘فوری حل’ نہیں صرف کیلوری کم کرنا مؤثر ہے۔
الغرض بہت سے لوگ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا وزن بڑھنے سے روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ تحقیق اس پہلو پر نہیں ہوئی۔
یہ طریقہ کولیسٹرول، بلڈ شوگر کم کرنے اور نظام ہضم بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 1.
یہ بھی پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
حالیہ تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے والی جابز بند کرنے والے افراد روایتی ڈائیٹنگ کے مقابلے میں 4 گنا تیزی سے وزن واپس حاصل کر لیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عارضی کھانا چھوڑنا وزن کم کرنا وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عارضی کھانا چھوڑنا نے کہا کہ کے مطابق تحقیق کے سکتا ہے ہو سکتا کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم