کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری، نشیبی علاقے زیرِ آب
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے مضافات میں گزشتہ رات سے وقفے وقفے کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ آج رات تک اور آئندہ 12 گھنٹوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ کوئٹہ اور گردونواح کے علاوہ پشین، چمن، قلعہ سیف اللہ اور قلعہ عبداللہ میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہرنائی، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جبکہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں ژالہ باری بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش قلات میں 32 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ کوئٹہ میں 29 ملی میٹر، خضدار میں 7، پسنی میں 6، نوکنڈی اور تربت میں 5، اورماڑہ میں 4 جبکہ ژوب میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
قلات شہر اور گردونواح میں رات بھر وقفے وقفے سے بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ چاغی کے مختلف علاقوں، دالبندین، سیندک، امین آباد اور چہتر سمیت دیگر مقامات پر بھی گزشتہ شب سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
شدید بارش اور تیز آندھی کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی جبکہ کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک