کراچی کے متعدد علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں موسم کی تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور کئی حصوں میں بارش اور ژالہ باری نے موسم کو خوشگوار اور سرد کر دیا ہے۔ شہر کے شمالی اور وسطی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کے دوران مقامی شہریوں نے موسم کی تازگی کا لطف اٹھایا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملیر ہالٹ، رفاہ عام اور ملحقہ علاقوں میں ہلکی بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ فیدرل بی ایریا اور اس کے اطراف میں بھی بارش ہوئی ہے۔ گلستان جوہر، اسکیم 33، ملحہ اور گلشن جمال کے علاقوں میں ژالہ باری کے مناظر دیکھنے کو ملے، جس سے سردی میں اضافہ ہوا۔
موسم کے پیش نظر شہریوں نے چھتریوں اور بارش کے لباس کا استعمال شروع کر دیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں بارش کی شدت کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید بارش کے امکانات ہیں اور شہری اپنے روزمرہ کے معمولات میں احتیاط کریں۔
شہر کے مختلف مقامات پر ژالہ باری نے اسکول کے بچوں اور شہریوں کے لیے موسم کو دلچسپ بنایا، اور کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث رکاوٹیں بھی پیدا ہوئیں۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق کراچی میں یہ بارشیں چند دن تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے موسم سرد اور خوشگوار رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں ژالہ باری
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔