ہمارے سامنے ایک واضح راستہ ہے کہ جو مثبت ہے، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ابھی بھی فریقین کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے جسے قریب لانے کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جنیوا میں "ایران" اور "امریکہ" کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور آج اختتام کو پہنچا۔ جس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے میڈیا كو مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم جنیوا میں واقع عمانی سفارت خانے میں امریکی وفد کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہوئے۔ البتہ مشاورت کل سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اس سلسلے میں IAEA کے سربراہ "رافائل گروسی" خود جنیوا آئے۔ جن کے ساتھ تکنیکی پہلوؤں پر اچھی گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے امریکی وفد سے بھی ملاقات کی۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس دور میں گزشتہ کی نسبت مکمل طور پر سنجیدہ گفتگو ہوئی اور زیادہ تعمیری ماحول پایا گیا۔ مذاکرات میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں، جن پر سنجیدگی سے غور و خوض کیا گیا اور آخر کار ہم کچھ رہنماء اصولوں پر متفق ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جن کی بنیاد پر اب سے آگے بڑھیں گے اور ممکنہ معاہدے کے مسودے کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہوں گے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، لیکن کم از کم راستہ شروع ہو گیا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ یہ کام جلد از جلد انجام پائے گا اور ہم اس کے لئے کافی وقت دینے کو تیار ہیں، البتہ جب متن کی تدوین کی بات آتی ہے تو کام کچھ مشکل اور مزید تفصیلی ہو جاتا ہے۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ میرے خیال میں، گزشتہ اجلاس کے مقابلے میں اچھی پیش رفت ہوئی۔ اب ہمارے سامنے ایک واضح راستہ ہے، جو میرے نزدیک مثبت ہے۔ اگلے مذاکراتی دور کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگلے اجلاس کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں کیا گیا۔ صرف یہ طے پایا کہ دونوں فریق ممکنہ معاہدے کے متن پر کام کریں گے۔ اس کے بعد ہم ان متون کا تبادلہ کریں گے اور اس کے بعد تیسرے دور کے لئے کوئی تاریخ طے کریں گے۔ سربراہ دفتر خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا مذاکرات، پٹڑی چڑھ گئے ہیں اور کوئی روڈ میپ طے پایا؟َ۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس معنی میں کوئی خاص روڈ میپ نہیں، لیکن اب ہمارے پاس ایک واضح تصویر ہے کہ آئندہ کیا کرنا ہے اور آگے کا سفر کیسے طے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی فریقین کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے جنہیں قریب لانے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔