ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی میزائل مشقیں اچانک بند کردیں؛ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر دوسرے مرحلے کے مذاکرات آج سے جنیوا میں شروع ہوگئے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری فوجی مشقوں کے دوران پاسداران انقلاب نے ساحلی علاقوں سے متعدد میزائل داغے گئے جنھوں نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
یہ پہلی بار ہے کہ امریکا کے فوجی دباؤ بڑھنے کے بعد ایران نے فوجی مشقوں کے لیے اس اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے کچھ حصے باضابطہ طور پر بند کیے ہیں۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اور اس کی بندش سے متعدد ممالک کی تجارت بالخصوص آئل ٹینکرز کی آمد و رفت متاثر ہورہی ہے۔
تاہم اب ایران نے جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز میں جاری اپنی فوجی مشقوں کو عارضی طور ہر بند کردیا۔
ایران نے یہ اقدام اُس وقت اُٹھایا ہے جب جنیوا میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا دوسرے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔
ادھر امریکا نے دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جو پہلے سے موجود امریکی ابراہام لنکولن کے ساتھ شامل ہوگیا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو عمان میں ہوا تھا جس میں فریقین نے دوبدو مذاکرات نہیں کیے تھے۔
البتہ عمانی وزیر خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرکے انھیں اپنا امن منصوبہ پیش کیا تھا اور اپنے اپنے تحفظات پیش کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران نے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔