’گاڈ فادر‘ کے اداکار رابرٹ ڈیوول انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
مشہور زمانہ فلم گاڈ فادر کے اداکار رابرٹ ڈیوول انتقال کرگئے، لیجنڈری اداکار نے فلم میں مافیا وکیل کا کردار ادا کیا تھا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق گاڈ فادر اور اپوکالیپس ناؤ میں اپنے کرداروں کی وجہ سے شہرت پانے والے معروف اداکار رابرٹ ڈیوول 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیجنڈری اداکار کی اہلیہ لوسیانا ڈیوول نے ان کی موت کی تصدیق گزشتہ روز کی۔
انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ کل میں نے اپنے شوہر، ایک اچھے دوست، اور اپنے وقت کے عظیم اداکاروں میں سے ایک کو الوداع کہا، ان کی موت گھر میں ہی ہوئی۔
نامور بھارتی گلوکارہ انتقال کرگئیں
شہرت سے دور رہنے والے رابرٹ ڈیوول نے بہترین اداکار کے لیے آسکر ایوارڈ بھی جیتا جب کہ وہ 6 بار دیگر کیٹیگریز میں بھی نامزد ہوئے تھے۔
اپنے 6 دہائیوں پر محیط کیریئر کے دوران، انہوں نے مرکزی اور ضمنی کردار دونوں میں شاندار اداکاری کی، اور بالآخر ہدایت کار بھی بنے۔
لوسیانا ڈیوول نے کہا کہ دنیا کے لیے، وہ ایک آسکر جیتنے والے اداکار، ہدایت کار، اور مصنف تھے لیکن میرے لیے وہ سب کچھ تھے۔
یاد رہے کہ رابرٹ ڈیوول نے 1983 میں ’ٹینڈر مرسیز‘ میں ایک زوال پذیر کنٹری گلوکار کا کردار ادا کر کے آسکر جیتا تھا جب کہ ان کو آخری فلم کے لیے بھی آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا جو انہیں نہیں مل سکی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔