نئی دہلی: بھارتی عدالت نے ایک نہایت سنگین اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے والے مقدمے میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ تشدد، اجتماعی زیادتی اور قتل کے جرم میں تین نوجوان ملزمان کو سزائے موت سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں سیاحتی مقامات کی سیکیورٹی اور غیر ملکی سیاحوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سزا پانے والے ملزمان میں 27 سالہ شرن نپا، 22 سالہ ملیش اور 21 سالہ سائی شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 6 مارچ 2025 کی شب موٹر سائیکل پر سنابپور جھیل پہنچ کر رات کے وقت ستارے دیکھنے آئے پانچ سیاحوں پر حملہ کیا۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق ملزمان نے سیاحوں سے پٹرول پمپ کا راستہ پوچھنے کے بہانے ان کے قریب پہنچ کر مالی مطالبات کیے۔ جب سیاحوں نے ان کی منہ مانگی رقم دینے سے انکار کیا تو تینوں نوجوان مشتعل ہو گئے اور انہوں نے تشدد کا آغاز کیا، مرد سیاحوں میں سے تین میں سے دو بحفاظت کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن بیبش کمار نائیک نامی بھارتی سیاح جھیل میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

اسی دوران ملزمان نے دونوں خواتین سیاحوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور ان کے موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے، متاثرہ خواتین میں ایک 27 سالہ اسرائیلی اور دوسری 29 سالہ بھارتی میزبان تھیں، جو اپنے گھر میں سیاحوں کو ٹھہرنے کی سہولت فراہم کر رہی تھیں۔ مرد سیاحوں میں امریکی سیاح 23 سالہ ڈینیئل پٹاس اور بھارتی سیاح 42 سالہ پنکج پٹیل بھی شامل تھے۔

یہ کیس عالمی سطح پر بھارتی حکومت کے احتساب اور سیاحوں کے تحفظ پر شدید تنقید کا سبب بنا۔ حکومت مودی پر بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں کیس کی تیز رفتار کارروائی یقینی بنائی گئی، جس کے بعد عدالتی فیصلے میں تینوں ملزمان کو موت کی سزا دی گئی۔

واقعہ اور اس پر عدالتی کارروائی نے بھارت کے سیاحتی شہروں میں سیکیورٹی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور یہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی شہرت پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سیاحوں کے غیر ملکی

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا