کس بھارتی کھلاڑی کی وجہ سے کرکٹ میں آنے کا فیصلہ کیا؟ عثمان طارق کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
حال ہی میں پاکستان کے نئے ابھرتے ہوئے اسپنر عثمان طارق کے چرچے ان دنوں زبان زد عام ہیں۔
دنیا بھر کے موجودہ و سابق کرکٹرز ہوں یا شائقین سب ہی عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن اور بہترین ویری ایشنز پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔
بالخصوص ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ سے قبل بھارتی ٹیم بھی ان کے خوف میں مبتلا نظر آئی۔
وہ کرکٹ کھیلنے سے قبل کیا کام کرتے تھے اور کرکٹ کی طرف کیسے راغب ہوئے یہ انکشاف انہوں نے خود ہی کردیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں نمیبیا کے خلاف میچ سے قبل پریس کانفرنس میں عثمان طارق کا کہنا تھا کہ سابق بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی میرے رول ماڈل ہیں۔
عثمان طارق کا کہنا تھا کہ جاب کرنے کے دوران دھونی کو دیکھ کر دوبارہ کرکٹ میں آنے کا فیصلہ کیا۔
پاک بھارت میچ سے متعلق انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں اپنی بولنگ سے مطمئن نہیں ہوں، زیادہ اچھا کرنا چاہیے تھا۔
عثمان طارق نے کہ بھارت نے مجھے وکٹ نہ دینے کا پلان کیا تھا۔ بھارتی ٹیم نے میرے لیے خصوصی پریکٹس کی، یہ جان کر اعتماد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مد مقابل ٹیم کے بجائے میچز جیتنے پر سارا فوکس ہے۔
عثمان طارق نے کہا کہ بابر اعظم اور شاہین آفریدی بڑے پلیئرز ہیں، ایک خراب میچ سے ان کے ٹیلنٹ پرسوال نہیں بنتا، ان دونوں نے کئی بار پاکستان کو پریشر میں میچز جتوائے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میچ سے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔