لاہور میں 2 بہنوں کیساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ، مرکزی ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
لاہور کے علاقے جنوبی چھاؤنی میں 2 بہنوں کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر حکومت پنجاب نے فوری نوٹس لے لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سابق کھلاڑی عبدالقادر کے بیٹے پر گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام، پولیس نے گرفتار کرلیا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان نے رشتہ دکھانے کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو ہوٹل لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کے ساتھ ہوٹل کے مالک اور منیجر کو بھی گرفتار کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کی عزت و حرمت پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ملزمان کو قرار واقعی اور عبرتناک سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ بہنوں کو مکمل قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں خاتون کا اغوا اور اجتماعی زیادتی، ویڈیو بیان بھی آگیا
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے درندہ صفت عناصر معاشرے کے لیے ناسور ہیں اور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ کیس کی شفاف اور تیز رفتار تفتیش کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور حکومت زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
چیئرپرسن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے اور محفوظ معاشرہ ہی حکومت کا مشن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اجتماعی زیادتی پنجاب خواتین ریپ لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اجتماعی زیادتی خواتین ریپ لاہور اجتماعی زیادتی زیادتی کا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔