گورنر پنجاب نے لینڈ ریونیو اور جائیداد تحفظ کے ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب لینڈ ریوینو (ترمیمی) آرڈیننس اور غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کردئیے۔
ترمیمی آرڈیننس سے پنجاب لینڈ ریونیو میں ڈیجیٹل نظام اور جدت کی ترویج ہو گی، ترمیمی آرڈیننس کا مقصد زمین کے مالکان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے اراضی کے معاملات میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس
گاڑیوں کی نمبر پلیٹس ڈجٹ نمبر میں اضافہ،3کی بجائے4 ہندسے ہونگے
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس میں قبضے کی منتقلی اور زر واصلات منافع کے ساتھ زمین کی تقسیم پر بات کی گئی، اپیلوں، نظرثانی کے عمل میں اصلاحات کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، الیکٹرانک ڈیجیٹل ذرائع سے سمن ، نوٹسز اور اعلان کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت زمینوں کی حد بندی اور غیر قانونی قابضین کی بے دخلی کے لیے قانونی طریقہ کار مرتب کیا جائے گا، اراضی انتقال کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا، نئے قانون کے تحت زمین کے تمام تر انتقال ڈیجیٹل کیے جائیں گے، پٹواری کو صرف وراثتی انتقال کا اختیار ہوگا۔
لاہور میں 260 ٹریفک حادثات؛ ایک شخص جاں بحق ،300 افراد زخمی
نئے قانون کے تحت کسی کیس میں صرف بورڈ آف ریونیو کو لوئر کورٹ میں ریمانڈ کرنے کا اختیار ہو گا۔
غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ ترمیمی آرڈیننس
غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کے لیے جاری ترمیمی آرڈیننس کے تحت تنازعات کے حل کی کمیٹی کی جگہ سکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
سکروٹنی کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او، اے ڈی سی آر، اے سی، ایس ڈی پی او کے علاوہ سرکل ریوینو افسر اور پولیس سٹیشن کے انچارج افسر کا اضافہ ہوگا، غیر قانونی قبضے کے جرم میں 5سے 10سال سزا کے علاوہ 10ملین تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ ہوگا۔
3لاکھ 28ہزار خاندانوں کے لئے رمضان پیکج کا اعلان
جھوٹی شکایت کی صورت میں 5 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ 5 سال تک کی سزا ہوگی۔
پہلے قانون میں شکایت تنازعات کے حل کی کمیٹی کے سامنے کی جاتی تھیں تاہم اب شکایت حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائے گی، ٹربیونل 3دن کے اندر شکایت سکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کرنے کے لئے بھیجنے کا پابند ہوگا۔
سکروٹنی کمیٹی 30دن کے اندر رپورٹ جمع کرائے گی جبکہ پہلے قانون میں یہ مدت کمشنر کی اجازت سے مزید 90 دن آگے کی جاسکتی تھی۔
خیبر: باڑہ میں بارودی سرنگ کا دھماکا، راہ گیر خاتون جاں بحق
ٹریبونل 30دن میں فیصلہ کرے گا جبکہ پہلے یہ معیاد 90دن تھی، ٹریبونل کو ایک ہی مقدمے میں منسلک جرائم کی سماعت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ پہلے ٹریبونل کا دائرہ اختیار صرف ایکٹ کے تحت کی گئی کاروائیوں تک محدود تھا۔
ڈپٹی کمشنر کے بجائے ٹریبونل کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا۔
آرڈیننس کے اجراء کے بعد حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹریبونل کے ممبر ہوں گے جبکہ پہلے ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ ججز ممبر تھے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ سامنے آ گئی
خیال رہے کہ جائیداد ملکیت تحفظ کے ایکٹ پر لاہور ہائیکورٹ نے عملدرآمد روک دیا تھا جس کے بعد ترامیم کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ترمیمی آرڈیننس سکروٹنی کمیٹی لینڈ ریونیو پنجاب لینڈ کا اختیار جبکہ پہلے کے تحت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔