عالمی سیاست میں توانائی، تیل کے گرد بڑھی طاقتوں کی کشمکش
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
عالمی سیاست میں توانائی ایک بار پھر مرکزی موضوع بن چکی ہے اور ماہرین کے مطابق بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش میں تیل کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی و تزویراتی مسابقت نے مشرقِ وسطیٰ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں ایران ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تیل کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں وینزویلا، سعودی عرب، ایران، کینیڈا اور روس شامل ہیں۔ دوسری جانب سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والی معیشتوں میں امریکا، چین اور بھارت نمایاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی تک رسائی صنعتی پیداوار، دفاعی صلاحیت اور عالمی اثر و رسوخ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں طویل مدتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں، جسے واشنگٹن میں اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم بعض مبصرین اس تاثر سے اختلاف کرتے ہیں کہ کسی ایک ملک پر کنٹرول عالمی تیل منڈی پر مکمل غلبہ دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سپلائی چین، تجارتی معاہدے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام توانائی کے بہاؤ کو متوازن رکھتے ہیں۔ عالمی کشیدگی کے ممکنہ اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ادھر توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کی جانب بڑھتی سرمایہ کاری بھی عالمی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں طاقت کا توازن صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے ذرائع بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل توانائی کے کے مطابق
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔