رمضان المبارک کی آمد، جدہ کی کھجور مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
رمضان المبارک کی آمد سے قبل جدہ کی کھجور مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں شہریوں اور مقیم افراد کی جانب سے خریداری میں تیزی آ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: کھجور کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات بنانیوالی والی پاکستانی کمپنی
فروخت کنندگان نے پیشگی تیاری کرتے ہوئے مملکت کے مختلف علاقوں اور گورنریٹس سے اعلیٰ معیار کی کھجوروں کی وسیع اقسام فراہم کی ہیں، کیونکہ رمضان کے افطار دسترخوان میں کھجور کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے مختلف مارکیٹوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کے دورے کے دوران خریداروں کی بھرپور آمد اور کھجوروں کی متعدد اقسام کی دستیابی کا مشاہدہ کیا گیا۔
دکانداروں نے صارفین کی مختلف ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے، درمیانے اور بڑے کارٹن پیکجز میں خصوصی ڈسپلے ایریاز قائم کیے ہیں۔
مارکیٹ کی رونق خریداروں کی متنوع پسند کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ متعدد خریدار تازہ یا دبائی ہوئی سکری کھجور کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد سکری ملوکی، خلاص اور صفری اقسام کو پسند کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ریاض میں بین الاقوامی کھجور کانفرنس ونمائش کا آغاز
یہ کھجوریں قصیم، الاحسا، الخرج اور بیشہ کے فارموں سے فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے صارفین کو متنوع انتخاب میسر آ رہا ہے اور رمضان کے سیزن میں مارکیٹ کی سرگرمی مزید بڑھ گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews رمضان المبارک کھجور مارکیٹوں کی رونق وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک کھجور مارکیٹوں کی رونق وی نیوز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔