وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ آسٹریا کا مشترکہ اعلامیہ جاری؛ دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عز م
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ آسٹریا کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جمہوریہ آسٹریا کی حکومت کی نمائندگی کرسٹین سٹاکر چانسلر جمہوریہ آسٹریا نے کی،پاکستان کی نمائندگی وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کی، جمہوریہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر نے 16 فروری کو وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کا سرکاری دورے پر استقبال کیا، دورہ آسٹریا اور پاکستان کے درمیان 1956 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا،دونوں راہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا،فریقین نے اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔فریقین نے عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔فریقین نے امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے چیلنجز سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار پر اتفاق کیا۔
رمضان المبارک کے احترام میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھیٹرز بند رہیں گے
انہوں نے کثیرالجہتی نظام اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔ایسا نظام جو اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد پر مبنی ہے۔فریقین نے اقوامِ متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں راہنماؤں نے تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، مہمان نوازی، تعلیم، آئی ٹی، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو سراہا۔
یکم رمضان کو بینکوں میں تعطیل ہوگی ؛اعلان ہوگیا
اس سلسلے میں انہوں نے زیرِ غور مختلف مفاہمتی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ۔دونوں راہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔آسٹریا کے وفاقی چانسلر اور پاکستانی وزیرِ اعظم نے آسٹریا اور پاکستان کی معروف کمپنیوں کے ایک مشترکہ فورم کی بھی مشترکہ صدارت کی۔
اتفاق کیا گیا کہ موجودہ اور مستقبل کے مکینزمز کے تحت دوطرفہ تبادلوں اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔اتفاق رائے کیا گیا کہ قائم شدہ مکالماتی ڈھانچوں پر تعمیر کیا جائے گا
ڈالر کی قیمت میں کمی
وزیرِ اعظم نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور کمپنیوں کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی،وزیرِ اعظم نے وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کو مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہباز شریف اتفاق کیا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔