پاکستان‘ سری لنکا : وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو( مانیٹر نگ ڈ یسک ) پاکستان اور سری لنکا کی وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی کی سری لنکا کی وزارت داخلہ آمد، سری لنکا کے وزیر داخلہ و پارلیمانی امور آنند وجے پالا نے محسن نقوی کا شاندار استقبال کیا۔ملاقات میں داخلی سیکورٹی انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے لیے باہمی معاونت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ ملاقات میں سائبر کرائمز اور مالیاتی فراڈ میں ملوث مافیا کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر گفتگو ہوئی، غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی روک تھام کے لیے باہمی کوآرڈی نیشن بہتر بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی مشترکہ ٹریننگ پروگرامز پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔وزیرداخلہ نے سری لنکن پولیس کے افسران کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کی پیشکش کی۔محسن نقوی نے کہا کہ افسران کے ٹریننگ ایکسچینج پروگرامز سے دونوں ممالک کی فورس کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا جس سے دونون ممالک کے درمیان تعاون سے تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کو سائبر کرائمز اور مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سری لنکا
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔