ائیر کرافٹ کیریئر سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر میں غرق کرسکتا ہے: آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ائیر کرافٹ کیریئر سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر میں غرق کرسکتا ہے: آیت اللہ خامنہ ای WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز
تہران(سب نیوز )ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ائیر کرافٹ کیریئر سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر میں غرق کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدراسلامی جمہوریہ ایران کو نہیں گرا سکیں گے، امریکی صدر اپنی فوج کو دنیا کی مضبوط ترین فوج قراردیتے ہیں لیکن دنیا کی سب سیمضبوط فوج کو بھی ایسا تھپڑپڑسکتا ہیکہ وہ اٹھ نہ سکے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارہ دیتے ہوئے متعدد مرتبہ ایران کی جانب بحری بیڑہ بھیجنے کا ذکر کرچکے ہیں۔دوسری جانب آج ایرانی پاسداران انقلاب نیوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاسداران انقلاب حکم ملتے ہی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق منگل کے روز اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز مشق کے دوران چند گھنٹوں کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معطل رہی۔بحری مشق کے دوسرے مرحلے میں پاسدارانِ انقلاب نیوی کے جنگی اور فوری ردعمل دینے والے یونٹس نے حصہ لیا جس کا مقصد محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانا تھا۔
مشق کے دوران مختلف ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اور فوجی ماہرین کے مطابق مشق میں مقررہ اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار میزائل بردار کشتیوں نے بھی میزائل فائر کر کے عملی کارروائی کا مظاہرہ کیا جبکہ خلیج کے ساحلی علاقوں اور جزائر سے داغے گئے میزائلوں نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپشاور ہائیکورٹ کے حکم پر خیبرپختونخوا پولیس کا ایکشن، تمام شاہراہوں کو کھول دیا پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر خیبرپختونخوا پولیس کا ایکشن، تمام شاہراہوں کو کھول دیا بنگلادیش: جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان اپوزیشن لیڈر، این سی پی کے ناہید اسلام چیف وہپ نامزد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان اور نمیبیا کا اہم میچ بارش سے متاثر ہونے کا امکان چینی سفارت خانہ نے تحفہ تقسیم کے ذریعے لونر نیو ایئر منایا سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر آگیا؛ دیگر ممالک سے بھی اعلانات موصول پی ٹی آئی قیادت 9 فروری سے عمران خان کی آنکھوں میں تکلیف سے باخبرتھی، قیادت نے زیادہ اہمیت نہ دیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔