سعودی عرب سمیت متعدد ممالک میں رمضان کا چاند نظر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض:سعودی عرب میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق بدھ 18 فروری کو پہلا روزہ ہوگا۔
سعودی میڈیا کے مطابق چاند دیکھنے کے لیے حوطہ سدیر سمیت مملکت کے کم از کم سات مختلف مقامات پر خصوصی اجلاس منعقد کیے گئے جن میں محکمہ موسمیات اور فلکیات کے ماہرین بھی شریک تھے۔ اس سال پہلی مرتبہ چاند کی رویت کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور جدید دوربینوں کا استعمال کیا گیا۔
سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے چاند نظر آنے کی تصدیق کے بعد سرکاری سطح پر یکم رمضان کا اعلان کیا گیا، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی بدھ 18 فروری کو یکم رمضان ہوگا اور وہاں کی مذہبی اتھارٹیز نے سرکاری نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب ملائیشیا اور ترکیے میں چاند نظر نہیں آیا، جس کے باعث ان ممالک میں پہلا روزہ جمعرات 19 فروری کو رکھا جائے گا۔ اسی طرح سنگاپور، برونائی، آسٹریلیا اور عمان میں بھی رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری سے ہوگا۔
ترجمان سپارکو کے مطابق پاکستان میں رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل پشاور میں منعقد ہوگا جہاں ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کی بنیاد پر حتمی اعلان کیا جائے گا، فلکیاتی حسابات کے تحت پاکستان میں یکم رمضان 19 فروری 2026 کو ہونے کا قوی امکان ہے۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کی پیدائش، افق پر اس کی بلندی اور نظر آنے کے دورانیے جیسے عوامل مختلف ممالک میں رویت کے فرق کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے دنیا کے مختلف حصوں میں رمضان کا آغاز ایک ہی دن نہیں ہوتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔