کراچی: مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کے بعد نکاسی آب کا بحران
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد کے علاقے گلستانِ جوہر میں ہلکی بارش کے فوراً بعد ہی سڑکیں اور گلیاں پانی میں ڈوب گئیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق بارش شروع ہوئے ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ سڑکوں پر کھڑا پانی جمع ہونا شروع ہوگیا، جو بارش کا نہیں بلکہ مبینہ طور پر ابلتے گٹروں کا پانی تھا۔
https://jasarat.com/wp-content/uploads/2026/02/water-leek.mp4
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے اور معمولی بارش بھی پورے علاقے کو تالاب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ علاقہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ انتظامی توجہ نہ ہونے کے باعث مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ متعدد سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو مشکلات پیش آئیں۔
مقامی لوگوں نے بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سیوریج لائنوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر بارش کے بعد پیدا ہونے والی اس صورتحال سے نجات مل سکے۔
دوسری جانب شہر کے علاقے حسین آباد سے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں سڑکوں پر چھوٹے چھوٹے برف کے ٹکڑتے بھی گرے ہیں۔
https://jasarat.com/wp-content/uploads/2026/02/oley.mp4شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارش نے ایک بار پھر کراچی میں شہری سہولیات، نکاسی آب اور انفراسٹرکچر کے مسائل کو بے نقاب کر دیا ہے، اگر فوری منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے مون سون یا مزید بارشوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نکاسی آب
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔