لاہور:(نیوزڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ بار اور بینچ لازم و ملزوم ہیں، وکلاء کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، سائلین کو بروقت اور شفاف انصاف کی فراہمی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم سے پنجاب کی مختلف ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے ملاقات کی،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا ویژن ہے کہ عدالتی نظام کی بہتری کے لیے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بار ایسوسی ایشنز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسی سلسلہ میں خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر کے جوڈیشل کمپلیکسز میں موجود بار ایسوسی ایشنز میں ای لائبریریز اور سولر سسٹم مہیا کئے جا رہے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے عدالتی نظام میں نئی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ مقدمات کی دائری کے لئے بائیو میٹرک تصدیق کے حوالے سے درپیش مشکلات کے تدارک کے لئے نئے ایس او پیز بھی منظور کر لئے گئے ہیں جو جلد جاری کردیے جائیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلاشبہ زیر التواء مقدمات کے خاتمے، جدید اصلاحات کے نفاذ اوربارز کو درپیش مسائل کے حل کے لئے وکلاء کا تعاون ناگزیر ہے، عدالتی نظام کے بنیادی سٹیک ہولڈرز سائلین ہیں اور سائلین کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ہڑتال کلچر کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بنچ اور بار کی عزت مشترکہ ہے، وکلاء اگر عدالتوں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے تو وکلاء کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید برآں بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے فاضل چیف جسٹس کی جانب سے جدید اصلاحات کے نفاذ کی تعریف کی اور وکلاء کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا، جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ بارایسوسی ایشنز خصوصاً خواتین اور نوجوان وکلاء کے مسائل کا حل لاہور ہائی کورٹ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

ملاقات کرنے والوں میں ضلعی بار ایسوسی ایشنز بہاولپور، بہاولنگر،جھنگ، لیہ، لودھراں، حافظ آباد، وزیر آباد اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز بھیرہ، کھاریاں، کبیروالا اور گوجر خان کے صدور و سیکرٹری صاحبان شامل تھے جب کہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ امجد اقبال رانجھا بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور