ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں دونوں فریقین ایک ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے چند رہنما اصولوں پر وسیع اتفاق کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این کا دعویٰ
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ مذاکرات اومان کے سفیر کی جنیوا میں واقع رہائش گاہ پر ہوئے جہاں دونوں ممالک کے وفود نے اومانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا۔
عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار ہم رہنما اصولوں کے ایک مجموعے پر وسیع اتفاق تک پہنچ گئے ہیں جن کی بنیاد پر ہم آگے بڑھیں گے اور ممکنہ معاہدے کے متن پر کام شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تیسرے دور کی بات چیت کی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی کیونکہ دونوں جانب سے پہلے مجوزہ مسودات تیار کیے جائیں گے پھر ان کا تبادلہ کر کے اگلی ملاقات کا وقت مقرر کیا جائے گا۔
سنہ 2018 میں امریکا کی علیحدگی معاہدے کی خلاف ورزی قرارعراقچی نے سنہ 2018 میں امریکا کے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے کو بین الاقوامی طور پر منظور شدہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ معاہدہ باضابطہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کہلاتا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟
انہوں نے کہا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں ہے اور نہ ہی انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ ایران کے قومی سلامتی کے نظریے میں کوئی جگہ نہیں رکھتے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت رکن ممالک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور افزودگی کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے جو غیر قابل مذاکرات اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے۔
بات چیت میں اچھی پیشرفت ہوئی، اومانمذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکی وفد کی سربراہی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی۔ دونوں وفود نے اومان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں۔
اومان کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ جنیوا میں ہونے والی بالواسطہ بات چیت میں مشترکہ اہداف اور تکنیکی امور کی نشاندہی کے حوالے سے اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔
پابندیاں اٹھانا معاہدے کا لازمی حصہایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ کسی بھی جوہری معاہدے کا لازمی جزو ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کھلے ذہن اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔ وقت ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹیم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے جنیوا میں چند دن یا حتیٰ کہ چند ہفتے قیام کے لیے بھی تیار ہے۔
خامنہ ای کی پیشگی شرائط پر تنقیدایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی مطالبات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے پہلے نتائج طے کرنا غلط اور غیر دانشمندانہ ہے۔
مزید پڑھیں: جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جینیوا میں، ایران نے لچک کا اشارہ دے دیا
انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ 47 برسوں میں اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگیاسی دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے کہا کہ اگر اعلیٰ قیادت حکم دے تو ایران اس آبی گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے جس کے باعث اسے عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ملاقاتمذاکرات سے قبل عباس عراقچی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی ملاقات کی جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے تکنیکی امور اور نگرانی پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کو دوٹوک جواب، ایران نے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک بھیجنے سے انکار کر دیا
ایران کا کہنا ہے کہ وہ منصفانہ اور متوازن معاہدہ چاہتا ہے لیکن بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ امریکا کی جانب سے یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی اختلافی نکات میں شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت ایران امریکا معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت ایران امریکا معاہدہ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات میں عباس عراقچی عراقچی نے جنیوا میں ایران کے کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :