ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں دونوں فریقین ایک ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے چند رہنما اصولوں پر وسیع اتفاق کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این کا دعویٰ

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ مذاکرات اومان کے سفیر کی جنیوا میں واقع رہائش گاہ پر ہوئے جہاں دونوں ممالک کے وفود نے اومانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا۔

عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار ہم رہنما اصولوں کے ایک مجموعے پر وسیع اتفاق تک پہنچ گئے ہیں جن کی بنیاد پر ہم آگے بڑھیں گے اور ممکنہ معاہدے کے متن پر کام شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرے دور کی بات چیت کی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی کیونکہ دونوں جانب سے پہلے مجوزہ مسودات تیار کیے جائیں گے پھر ان کا تبادلہ کر کے اگلی ملاقات کا وقت مقرر کیا جائے گا۔

سنہ 2018 میں امریکا کی علیحدگی معاہدے کی خلاف ورزی قرار

عراقچی نے سنہ 2018 میں امریکا کے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے کو بین الاقوامی طور پر منظور شدہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ معاہدہ باضابطہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کہلاتا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

انہوں نے کہا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں ہے اور نہ ہی انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ ایران کے قومی سلامتی کے نظریے میں کوئی جگہ نہیں رکھتے۔

عراقچی نے مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت رکن ممالک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور افزودگی کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے جو غیر قابل مذاکرات اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے۔

بات چیت میں اچھی پیشرفت ہوئی، اومان

مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکی وفد کی سربراہی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی۔ دونوں وفود نے اومان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں۔

اومان کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ جنیوا میں ہونے والی بالواسطہ بات چیت میں مشترکہ اہداف اور تکنیکی امور کی نشاندہی کے حوالے سے اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔

پابندیاں اٹھانا معاہدے کا لازمی حصہ

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ کسی بھی جوہری معاہدے کا لازمی جزو ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کھلے ذہن اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔ وقت ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹیم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے جنیوا میں چند دن یا حتیٰ کہ چند ہفتے قیام کے لیے بھی تیار ہے۔

خامنہ ای کی پیشگی شرائط پر تنقید

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی مطالبات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے پہلے نتائج طے کرنا غلط اور غیر دانشمندانہ ہے۔

مزید پڑھیں: جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جینیوا میں، ایران نے لچک کا اشارہ دے دیا

انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ 47 برسوں میں اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی

اسی دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے کہا کہ اگر اعلیٰ قیادت حکم دے تو ایران اس آبی گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے جس کے باعث اسے عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ملاقات

مذاکرات سے قبل عباس عراقچی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی ملاقات کی جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے تکنیکی امور اور نگرانی پر گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا کو دوٹوک جواب، ایران نے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک بھیجنے سے انکار کر دیا

ایران کا کہنا ہے کہ وہ منصفانہ اور متوازن معاہدہ چاہتا ہے لیکن بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ امریکا کی جانب سے یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی اختلافی نکات میں شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت ایران امریکا معاہدہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت ایران امریکا معاہدہ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات میں عباس عراقچی عراقچی نے جنیوا میں ایران کے کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی

امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل