گلگت میں ابتدائی انتباہی نظام سے متعلق منصوبے کی افتتاحی ورکشاپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
منصوبے کا مقصد سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی خطرات کے مقابلے کے لیے بروقت اور مؤثر ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چین کی بین الاقوامی ترقیاتی تعاون ایجنسی، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور حکومتِ گلگت بلتستان نے جی بی میں ابتدائی انتباہی نظام کو جدید بنانے کے ایک نئے منصوبے کی افتتاحی ورکشاپ گلگت میں منعقد ہوئی۔ افتتاحی تقریب میں نگراں وزیرِ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی گلگت بلتستان کرنل (ر) ابرار اسماعیل، کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ سرکاری اداروں اور این جی اوز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ یہ منصوبہ حکومتِ گلگت بلتستان کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے اشتراک سے، گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے اور خطے کے تمام اضلاع میں عمل میں لایا جائے گا۔ منصوبے کے لیے چین کی بین الاقوامی ترقیاتی تعاون ایجنسی کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔
منصوبے کا مقصد سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی خطرات کے مقابلے کے لیے بروقت اور مؤثر ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنا ہے۔ اس منصوبے سے براہِ راست تین ہزار افراد مستفید ہوں گے جبکہ پورے گلگت بلتستان میں تقریباً بیس لاکھ افراد کی جان و مال کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اپنے افتتاحی خطاب میں کرنل (ر) ابرار اسماعیل نے خطے میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے جدید، قابلِ اعتماد اور مؤثر ابتدائی انتباہی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے آفات کے خطرات میں کمی کے لیے چین کی بین الاقوامی ترقیاتی تعاون ایجنسی اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے کی مالی و فنی معاونت کو سراہا۔
ورکشاپ کے دوران منصوبے کے متوقع نتائج، عملی نفاذ کا طریقہ کار، ممکنہ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مختلف اداروں کے کردار، باہمی رابطہ کاری کے نظام اور قابلِ عمل معلومات کو آفات سے نمٹنے کے انتظامات میں شامل کرنے کے طریقوں پر وضاحت کی گئی۔ ابتدائی انتباہی نظام کے آلات کی فزیبلٹی جانچ اور تنصیب کے مقامات کی توثیق سے متعلق جامع پریزنٹیشن میں تکنیکی عمل اور ترجیحی علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔ کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان نے موسمیاتی خطرات سے متعلق بروقت اور درست معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مضبوط ڈیٹا سینٹر کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، ابتدائی جائزوں کے دوران ادارہ جاتی ہم آہنگی کو سراہا اور نصب شدہ نظاموں کی پائیداری اور مقامی ملکیت کو یقینی بنانے کے لیے کمیونٹی کی فعال شمولیت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ابتدائی انتباہی نظام گلگت بلتستان کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔