گلگت بلتستان کے ملازمین کے مسائل حل کیے جائیں گے، وزیر مملکت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ، بلال اظہر کیانی سے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر، حافظ حفیظ الرحمان نے ایک وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے محکموں میں تعینات ملازمین کو درپیش امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ، بلال اظہر کیانی سے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر، حافظ حفیظ الرحمان نے ایک وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے محکموں میں تعینات ملازمین کو درپیش امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف امور، بشمول نئی ملازمتوں کی تخلیق، موجودہ ملازمین کے عہدوں کے اپ گریڈیشن اور ری ڈیزائنیشن کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گلگت بلتستان کے ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے مرحلہ وار حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں اور علاقائی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔