ملک میں الیکٹرانکس ڈیوائسز اور موبائل فونز تیار کرنے کی پالیس بنالی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پہلی بار میڈ ان پاکستان الیکٹرانکس ڈیوائسز اور موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کرنے کے لیے سات سالہ پالیسی تیار کر لی گئی، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے سالانہ چالیس کروڑ ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کی زیر صدارت پاکستان میں الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل فون سطح پر تیاری کی پالیسی سے متعلق اجلاس ہوا ۔ تمام شرکت داروں اور پالیسی سازوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں موبائل اینڈالیکٹرانک ڈیوائسزمینوفیکچرنگ پالیسی دوہزار چھبیس تا تینتیس پرغور کیا گیا ۔ انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے حکام نے بتایا کہ پالیسی وزیرِاعظم کو پیش کرنے کیلئے تیار کر لی گئی ہے۔
معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ موبائل فون الیکٹرانک ڈیوائسزکی مقامی تیاری کا باقاعدہ آغازہوگا، یہ پالیسی صنعتی شعبےمیں نئی پیشرفت کاسنگِ میل ہے۔ پاکستان کوخطےمیں موبائل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ حب بنانےکا ہدف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔