محمد یونس نے الوداعی تقریر میں بھارت کی دھجیاں اُڑا دیں؛ مودی کو آئینہ دکھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے عام انتخابات کروانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
محمد یونس نے اپنی الوداعی دھواں دھار تقریر میں ایک بار پھر ایسا بیان دیدیا جس میں بھارت کے نام نہاد سیکولر اسٹیٹ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد یونس نے کہا کہ بنگلا دیش کا سمندر صرف قومی سرحد ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑنے کا دروازہ بھی ہے۔
اسی تناظر تناظر میں انھوں نے نیپال، بھوٹان اور ’سیون سسٹرز‘ کو خطے کی بڑی معاشی صلاحیت قرار دیا۔ اگرچہ محمد یونس نے بھارت کا نام نہیں لیا مگر ’سیون سسٹرز‘ کا براہِ راست حوالہ مودی سرکار کو بے چین کرگیا۔
’سیون سسٹرز‘ کیا ہیں اور کیوں حساس معاملہ ہے؟
’سیون سسٹرز‘ دراصل بھارت کے شمال مشرق میں واقع سات ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ اور تریپورہ کو کہا جاتا ہے۔
یہ تمام ریاستیں جغرافیائی طور پر باقیہ بھارت سے تقریباً کٹی ہوئی ہیں اور صرف شِلی گُری راہداری کے ذریعے ملک کے مرکزی حصے سے جڑی ہیں۔
یہ راہداری محض تقریباً 22 کلومیٹر چوڑی زمینی پٹی ہے جسے انڈیا کی اسٹریٹجک کمزوری کے باعث ’چکن نیک‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اسی علاقے کے قریب بنگلا دیش، نیپال، بھوٹان اور چین کی سرحدیں واقع ہیں جو اس خطے کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیتی ہیں۔
محمد یونس کے بیان کو بھارت میں اس تاثر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ ’سیون سسٹرز‘ کو انڈیا سے الگ جغرافیائی اکائی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
خاص طور پر اس لیے کہ انھوں نے ماضی میں بھی ان ریاستوں کو ’لینڈ لاکڈ‘ قرار دیتے ہوئے بنگلا دیش کو ان کا واحد سمندری راستہ کہا تھا۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ محمد یونس نے ایسا مؤقف اختیار کیا ہو۔ گزشتہ برس چین کے دورے کے دوران بھی انھوں نے کہا تھا کہ بھارت کی سیون سسٹرز ریاستوں کا سمندر سے کوئی رابطہ نہیں۔
محمد یونس نے زور دیکر کہا تھا کہ بنگلا دیش اس خطے کا نگہبان ہے جہاں چین کے لیے بڑے معاشی مواقع موجود ہیں۔
اُس وقت بھی بھارت میں اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور محمد یونس کے اس بیان کو اشتعال انگیز اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ سیون سسٹرز میں شامل ریاست اروناچل پردیش پر چین پہلے ہی دعویٰ کرتا ہے اور اسے ’جنوبی تبت‘ قرار دیتا ہے۔
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بنگلا دیش کی 94 فیصد سرحد بھارت سے ملتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 4 ہزار 367 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔
جس کی بنیاد پر بھارت برسوں سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے بنگلا دیش کے راستے خصوصاً چٹاگانگ بندرگاہ کے استعمال کی اجازت دی جائے۔
تاہم بنگلا دیش میں یہ معاملہ نہایت حساس سمجھا جاتا ہے اور ماضی کی تمام حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد یونس نے سیون سسٹرز
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب