عمران خان نے آخری ملاقات میں کہا تھا کہ وہ خطرے میں ہیں، عظمیٰ خان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عمران خان نے اپنی آخری ملاقات میں انہیں بتایا تھا کہ کچھ لوگ ان کی جان کو خطرہ پہنچا سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے صراحت سے کہا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور یہ لوگ ایسا کام کر سکتے ہیں۔
عظمیٰ خان نے کہا کہ انہیں اور ان کی بہن علیمہ خان کو صبح ایک کال آئی اور کہا گیا کہ قاسم زمان کو ملاقات کے لیے بھیج دیا جائے، وہ صرف اعتماد والے ڈاکٹر کو بھیجیں گے، جو رپورٹ شائع ہوئی ہے وہ محض کلینکل معائنہ کی تھی اور اس میں علاج کا کوئی منصوبہ شامل نہیں تھا۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مذاق ہے اور نان میڈیکل افراد کو شامل کر کے غیر شفاف رپورٹ تیار کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر سے ڈاکٹروں نے انہیں پیغامات بھیجے اور کہا کہ رپورٹ درست نہیں، انجکشن سے فوری علاج کے دعوے حقیقت سے دور ہیں،یہ لوگ ایسا کام کر سکتے ہیں، اگر سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا وہ بتا رہے ہیں تو پھر ہمیں ملاقات کیوں نہیں دی جاتی۔ ان کو کس بات کا ڈر ہے؟
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے آخری ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان نے انہیں خبردار کیا تھا کہ ان کی جان خطرے میں ہے اور اگر ایسا کچھ ہوا تو وہ اس کا بھرپور جواب دیں گے، انہیں آج چکری پر روکا گیا اور چار بجے تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اور یہی وجہ تھی کہ پریس کانفرنس ضروری تھی تاکہ عوام تک بانی پی ٹی آئی کی حالت کے بارے میں معلومات پہنچائی جا سکیں۔
عظمیٰ خان اور علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت، علاج اور حفاظت کے حوالے سے شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ عوام کو آگاہ کرنے پر مجبور ہیں اور مستقبل میں بانی پی ٹی آئی کی جان و سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔