ہالی ووڈ اداکارہ جیڈا پنکیٹ اسمتھ نے اپنے شوہر وِل اسمتھ کے سابق قریبی دوست بلال سلام کے خلاف اہم قانونی قدم اٹھا لیا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی جانب سے حاصل کردہ عدالتی دستاویزات کے مطابق فلم Scream 2 کی اداکارہ نے کیلیفورنیا کی عدالت میں درخواست کی ہے کہ دسمبر 2025 میں بلال سلام کی جانب سے دائر کیا گیا 30 لاکھ ڈالر کا مقدمہ خارج کیا جائے۔ اس مقدمے میں بلال نے الزام عائد کیا تھا کہ جیڈا نے ایک ہوٹل میں انہیں دھمکیاں دی تھیں۔

نئی درخواست میں جیڈا پنکیٹ اسمتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ بلال سلام، جو طویل عرصے سے وِل اسمتھ کے ساتھ وابستہ ایک موسیقار رہے ہیں، دراصل اسمتھ خاندان کے خلاف جاری مبینہ عوامی مہم کے تحت توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

عدالتی مؤقف میں کہا گیا کہ مدعی نے بغیر کسی ثبوت کے میڈیا کو انٹرویوز دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ول اسمتھ کو نامناسب جنسی حرکات میں ملوث دیکھا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ بلال کے الزامات بے بنیاد، غیر مصدقہ اور محض توجہ حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے، اور ان کا مقصد جیڈا اور ان کے خاندان کو ہراساں کرنا تھا۔ جیڈا نے قانونی کاغذات میں یہ بھی مؤقف اپنایا کہ انہیں اپنے خاندان سے متعلق ایسے معاملے پر، جو عوامی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہو، بیان دینے کا حق حاصل ہے۔

یہ تازہ قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بلال سلام نے پوڈکاسٹ Unwine With Tasha K میں گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ول اسمتھ کو اداکار ڈوانے مارٹن کے ساتھ قابل اعتراض صورتحال میں دیکھا۔ بلال نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں ایسے کام انجام دینے کے لیے کہا گیا جو ان کے بقول غیر قانونی، غیر اخلاقی یا اخلاقی طور پر مشتبہ تھے۔

موسیقار نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے جیڈا کی پیشکش قبول نہ کی تو انہیں ’’سنگین نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ادھر جیڈا کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں ان کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جو انہوں نے امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ TMZ کو دیا تھا، جس میں انہوں نے بلال کے الزامات کے جواب میں واضح الفاظ میں کہا تھا: ’’ہم مقدمہ کر رہے ہیں۔‘‘
 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بلال سلام انہوں نے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے