وِل اسمتھ پر غیر اخلاقی حرکات کا الزام، جیڈا اسمتھ نے بڑا قدم اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ہالی ووڈ اداکارہ جیڈا پنکیٹ اسمتھ نے اپنے شوہر وِل اسمتھ کے سابق قریبی دوست بلال سلام کے خلاف اہم قانونی قدم اٹھا لیا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی جانب سے حاصل کردہ عدالتی دستاویزات کے مطابق فلم Scream 2 کی اداکارہ نے کیلیفورنیا کی عدالت میں درخواست کی ہے کہ دسمبر 2025 میں بلال سلام کی جانب سے دائر کیا گیا 30 لاکھ ڈالر کا مقدمہ خارج کیا جائے۔ اس مقدمے میں بلال نے الزام عائد کیا تھا کہ جیڈا نے ایک ہوٹل میں انہیں دھمکیاں دی تھیں۔
نئی درخواست میں جیڈا پنکیٹ اسمتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ بلال سلام، جو طویل عرصے سے وِل اسمتھ کے ساتھ وابستہ ایک موسیقار رہے ہیں، دراصل اسمتھ خاندان کے خلاف جاری مبینہ عوامی مہم کے تحت توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عدالتی مؤقف میں کہا گیا کہ مدعی نے بغیر کسی ثبوت کے میڈیا کو انٹرویوز دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ول اسمتھ کو نامناسب جنسی حرکات میں ملوث دیکھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ بلال کے الزامات بے بنیاد، غیر مصدقہ اور محض توجہ حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے، اور ان کا مقصد جیڈا اور ان کے خاندان کو ہراساں کرنا تھا۔ جیڈا نے قانونی کاغذات میں یہ بھی مؤقف اپنایا کہ انہیں اپنے خاندان سے متعلق ایسے معاملے پر، جو عوامی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہو، بیان دینے کا حق حاصل ہے۔
یہ تازہ قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بلال سلام نے پوڈکاسٹ Unwine With Tasha K میں گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ول اسمتھ کو اداکار ڈوانے مارٹن کے ساتھ قابل اعتراض صورتحال میں دیکھا۔ بلال نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں ایسے کام انجام دینے کے لیے کہا گیا جو ان کے بقول غیر قانونی، غیر اخلاقی یا اخلاقی طور پر مشتبہ تھے۔
موسیقار نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے جیڈا کی پیشکش قبول نہ کی تو انہیں ’’سنگین نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ادھر جیڈا کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں ان کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جو انہوں نے امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ TMZ کو دیا تھا، جس میں انہوں نے بلال کے الزامات کے جواب میں واضح الفاظ میں کہا تھا: ’’ہم مقدمہ کر رہے ہیں۔‘‘
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔