کراچی میں پولیس اہلکار نے گھریلو ناچاقی اور پریشانی سے دلبرداشتہ ہوکر خود کو گولی مارلی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں واقع فلیٹ میں پولیس اہلکار نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گلشن اقبال بلاک 11 میں واقع نازش اپارٹمنٹ کی دوسری منزل پر مقیم گلستان جوہر میں تعینات پولیس اہلکار طلحہ نے لائسنس یافتہ پستول سے کنپٹی پر گولی مار کر خودکشی کی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر متوفی کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا۔
ایس ایچ او گلستان جوہر نوید سومرو نے بتایا کہ گلشن اقبال بلاک 11 نازش اپارٹمنٹ کی دوسری منزل کے فلیٹ سے سالہ طلحہٰ ولد قدیر احمد کی کنپٹی پر گولی لگی لاش ملی، متوفی پولیس اہلکار اور گلستان جوہر تھانے میں تعینات تھا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت گھر میں والد اور بہن موجود تھے جبکہ متوفی کے والد کا بائی پاس ہوا ہے تو وہ اپنے کمرے میں تھے، اسی دوران متوفی طلحہٰ نے اپنے لائسنس یافتہ پستول سے خود کو کنپٹی پر گولی مار کر خودکشی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے دلبرداشتہ اور پریشان تھا تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔