بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشتگرد تنظیم ہے، امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-01-4
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سابق فوجی افسر و دفاعی تجزیہ کار جو بوکینو کی بلوچستان لبریشن آرمی پر تحقیق سامنے آئی ہے۔ دی رئیل کلیئر ورلڈ میں اہم انکشافات ہوئے ہیں جس کے تحقیقی آرٹیکل میں بی ایل اے کو محض علیحدگی پسند نہیں بلکہ منظم اور سنگین دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کو صرف علیحدگی پسند تحریک کہنا فرسودہ اور غلط تصور ہے جو سیاسی محرومیوں سے جنم لینے والی تحریک سے بدل کر جدید طرز کی دہشت گرد تنظیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔