طارق رحمن نے بطور وزیراعظم بنگلادیش عہدے کا حلف اٹھالیا۔جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن اپوزیشن لیڈر نامزد
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-01-21
ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک ) بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کے سربراہ طارق رحمن نے بطور وزیراعظم بنگلادیش عہدے کا حلف اٹھا لیا جب کہ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کوقومی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈنامزد کردیا گیا۔منگل کو بنگلا دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے جاتیہ سنگساد بھابھن کے ساؤتھ پلازہ میں طارق رحمن سے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب حلف برداری میں پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سمیت مختلف ممالک کے مندوبین بھی شریک تھے۔قبل ازیں نومنتخب ارکان پارلیمنٹ سے بنگلادیش کے چیف الیکشن کمشنر ایم ایم ناصر الدین نے حلف لیا ۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے طارق رحمن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی جس کے بعد ان کی بنگلادیشی وزیراعظم سے خصوصی ملاقات ہوئی۔ بنگلا دیشی وزیراعظم اور احسن اقبال کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ احسن اقبال نے وزیراعظم طارق رحمن کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے، بحری روابط اورسپلائی چین انضمام کے فروغ پر زور دیا گیا۔ ملاقات میں بنگلا دیش پاکستان نالج کاریڈورکے آغازپراتفاق ہوا، تعلیمی وتحقیقی روابط بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کو13ویں قومی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف نامزد کردیا گیا۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر کو ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن جب کہ جماعت کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اتحاد کی اتحادی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے کنوینر ناہید اسلام کو اپوزیشن چیف وہپ نامزد کیا گیا ہے۔ حلف برداری کے بعد 11 جماعتی اتحاد کے ارکان نے پارلیمنٹ کمپلیکس میں شفیق الرحمن کی صدارت میں اجلاس منعقد کیا،اسی اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف، ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن اور چیف وہپ کے عہدوں کے لیے نامزدگیاں کی گئیں۔
ڈھاکا: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بنگلادیشن کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے شفیق الرحمن احسن اقبال
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.