احسن اقبال کی نومنتخب بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات، دورۂ پاکستان کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اپنے دورۂ بنگلادیش کے دوران نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ ملاقات حلف برداری تقریب کے بعد ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں تجارت کے فروغ، بحری روابط، سپلائی چین انضمام اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی سرمایہ کاری اور تجارتی روابط بڑھانے سے خطے میں معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔ اس موقع پر پاکستان۔بنگلادیش نالج کوریڈور کے قیام پر بھی اصولی اتفاق کیا گیا جس کا مقصد تعلیمی، سائنسی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات تاریخی اور اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے سابقہ دورۂ پاکستان کے دوران وہ اپنی والدہ خالدہ ضیاء کے ہمراہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر چکے ہیں، جسے انہوں نے خوشگوار اور یادگار قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔
قبل ازیں بنگلا دیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق رحمان نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب دارالحکومت ڈھاکا میں واقع جاتیہ سنگساد بھابھن کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوئی جہاں صدر محمد شہاب الدین نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔
دورۂ بنگلادیش کے دوران احسن اقبال کی گاڑی پر پاکستانی پرچم دیکھ کر شہریوں خصوصاً نوجوانوں نے گرمجوشی اور محبت کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔