کپل دیو سمیت 14 سابق انٹرنیشنل کپتانوں کا وزیر اعظم پاکستان کو خط‘ عمران خان کے بہتر علاج کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-01-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیائے کرکٹ کے 14 سابق کپتانوں نے سابق پاکستانی کپتان عمران خان کے بہتر علاج کے لیے حکومت پاکستان کو خط لکھ دیا۔ آسٹریلوی اخبار The Age کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 14 سابق انٹرنیشنل کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھ کر سابق کپتان عمران خان کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس خط کا مسودہ سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے تیار کیا جس پر مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی، این چیپل، بیلنڈا کلارک، سنیل گواسکر، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سر کلائیو لائیڈ، کپل دیو، اسٹیف وا ور جان رائٹ کے دستخط موجود ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس خصوصاً حراست کے دوران بینائی متاثر ہونے نے ہمیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔ بطور کپتان انہوں نے پاکستان کو تاریخی 1992 ورلڈکپ میں فتح دلائی جس نے سرحدوں سے پار نسلوں کو متاثر کیا۔ سابق کپتانوں کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اْن کے خلاف کھیلا، اْن کے ساتھ میدان شیئر کیا، وہ کھیل کے بہترین آل راؤنڈرز اور کپتانوں میں شمار ہوتے ہیں اور کھلاڑیوں، شائقین اور منتظمین سب کی عزت کے مستحق ہیں۔ خط کے اختتام پر دستخط کنندگان نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔