حکومت کہہ رہی ہے ملاقات کے لیے آؤ‘ ہم آگئے تو اب ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کے کہنے پر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل پہنچ گئے تاہم ملاقات منگل کوبھی نہ ہوسکی، رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت کہہ رہی ملاقات کے لیے آؤ اور ہم آئے ہیں تو ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ یہ رویہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ اڈیالہ روڈ سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہر بندہ سمجھتا ہے بانی کی صحت کے حوالے سے کوئی مستند خبر آئے گی، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں بانی کی آنکھ کیسی ہے، ملاقاتیں نہ کرانے کی وجہ سے میں ملک کرائسز میں ہے، ملاقات ہوجاتی تو ہمیں اصل صورتحال پتا چل جاتی مگر آپ بضد ہیں کسی کی ملاقات نہیں کرانی۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری 2025ء سے لیڈرشپ کی ملاقات بند ہے، کچھ بھی کرلیں پاکستان کی سیاست کا مین آف دی میچ عمران خان ہے، ہمارا بنیادی مطالبہ یہ تھا بانی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ہمارا مطالبہ تھا بانی فیملی اور ذاتی معالج کو رسائی دی جائے حکومت نے کہا ضرور! آپ اڈیالہ آجائیں اور ہم آگئے، یہ بات غلط ہے کہ ملاقات کا کہا جاتا ہے اور ہم نہیں آتے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم بطور وکیل آج یہاں آئے ہیں، ہمارے مقدمات عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، کیسے ممکن ہے آپ ایک شخص کے خلاف اتنے مقدمات چلائیں لیکن وکلاء کو ملنے نہ دیں یہ ہمارا بنیادی حق ہے کہ ہم بانی سے ہدایات لیں مگر آج ہمیں بطور وکیل نہیں ملنے دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کا حق ہے وہ اپنی فیملی سے ملیں جو بات ان کے ذہن میں ہے وہ بتائیں، فیملی کا بھی حق ہے جو بات ہے وہ باہر آکر ہمیں بتائے، یہ کیسے ممکن ہے آپ کسی کو بات کرنے سے روکیں، یہ کہنا بانی کی فیملی سیاسی بات نہیں کرے گی سراسر غیر آئینی ہے، ہماری کوئی بیک ڈور بات نہیں چل رہی جو بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی معائنے میں گوہر صاحب نے شریک ہونے سے ٹھیک انکار کیا، فیملی کا حق تھا وہ طبی معائنے کے وقت موجود ہو ہم میں سے کوئی بھی جاتا قوم کو تسلی نہیں ہونی تھی، شفافیت کا تقاضا تھا فیملی رکن یا ذاتی معالج وہاں موجود ہو، ایک وکیل کا یا سیاسی رہنما کا وہاں ہونا بے معنی تھاہم خانہ پری کے لیے نہیں جانا چاہتے تھے ہم نے طبی معائنے میں شریک نہ ہوکر کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہم شریک ہوتے تو اسے استعمال کیا جانا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔