مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی منظوری پر اقوام متحدہ کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے سے متعلق اپنا نیا اقدام واپس لے، جسے انہوں نے “غیر قانونی” اور خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اتوار کو ایک پالیسی کی منظوری دی، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو ریاستی ملکیت کے طور پر رجسٹر کیا جا سکے گا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد زمین کے حقوق سے متعلق قانونی تنازعات کو شفاف انداز میں حل کرنا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس فیصلے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
پاکستان نے بھی اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس اشتعال انگیز فیصلے کو مسترد کرے اور اسرائیل کو قانون کا پابند بنائے۔
یورپی یونین نے بھی اسرائیل سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے ترجمان اینور ایل اینونی نے کہا کہ الحاق بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور یہ اقدام کشیدگی میں اضافہ کرے گا۔
سعودی عرب، انڈونیشا، مصر، قطر اور اردن سمیت کئی عرب ممالک نے بھی اس فیصلے کو امن کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اردن کے فرمانروا کنگ عبداللہ دوم نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔