سکھرمیں بے امنی کیخلاف ریلوے پریم یونین کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر میں بے امنی کے خلاف ریلوے پریم یونین کا احتجاج، مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو کی گاڑی چوری ہونے پر پولیس کے خلاف نعرے بازی، آئی جی سندھ اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس اور گاڑی کی بازیابی کا مطالبہ، بصورتِ دیگر ملک گیر احتجاج کی دھمکی ،سکھر میں بڑھتی ہوئی بے امنی، لوٹ مار اور موٹر سائیکلوں و گاڑیوں کی مسلسل چوری کے خلاف پریم یونین سی بی اے ضلع سکھر کی جانب سے سکھر پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پریم یونین پاکستان کے سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو کی گھر کے باہر کھڑی گاڑی چوری ہونے کے واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔احتجاجی مظاہرے میں جماعت اسلامی پاکستان ضلع سکھر کے امیر زبیر حفیظ، پریم یونین کے مرکزی رہنما خیر محمد تنیو، اختر علی عباسی سمیت ریلوے مزدوروں اور کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔مظاہرین سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سکھر میں اسٹریٹ کرائم تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چوری معمول بن گئی ہے جبکہ شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ایک ذمہ دار شہری اور مزدور تنظیم کے مرکزی رہنما کی گاڑی بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی کارکردگی کا جائزہ کون لے رہا ہے اور کیا متعلقہ افسران کی کارکردگی کا آڈٹ کیا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ سکھر، جو سندھ کا اہم تجارتی شہر ہے، اب جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔مظاہرین نے سندھ پولیس کے آئی جی سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ شہر میں امن و امان کی بحالی اور اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی سکھر اور متعلقہ تھانوں کے افسران و اہلکاروں کی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے اور نظام میں موجود ‘‘کالی بھیڑوں’’ کی نشاندہی کر کے سخت کارروائی کی جائے۔پریم یونین سی بی اے پاکستان کے جنرل سیکرٹری خیر محمد تنیو نے بتایا کہ وہ ایوب کے کے قریب ریلوے کالونی میں رہائش پذیر ہیں جہاں ان کی گاڑی رات کے وقت گھر کے باہر سے چوری کر لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صبح ایس ایچ او سے رابطہ کیا گیا جو موقع پر بھی آئے جبکہ ایس ایس پی سے بھی بات ہوئی، تاہم اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ان کا کہنا تھا کہ سکھر شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، جن کی مدد سے باآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ گاڑی کس نے اور کس سمت لے جا کر چھپائی، مگر پولیس کی سست روی باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر چوری شدہ گاڑی برآمد کی جائے، بصورتِ دیگر ریلوے مزدور احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔احتجاج میں شریک اختر علی عباسی نے کہا کہ اگر ایک سرکاری ملازم اور مزدور رہنما اپنے گھر میں محفوظ نہیں تو عام شہری کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی سکھر، ڈی آئی جی سکھر اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر گاڑی بازیاب کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو موجودہ پرامن احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے پریم یونین سی بی اے کے پلیٹ فارم سے ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے شہر میں امن و امان کی بحالی، اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور پولیس کی مؤثر کارکردگی کو یقینی بنانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیر محمد تنیو پریم یونین نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف کیا جا کیا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔