جو سیاست میں مشکلات برداشت نہیں کر سکتا وہ کوئی اور کام کرلے، صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
وہاڑی:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، جو نہیں کر سکتا کوئی اور شعبہ اختیار کرلے۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہو چکے ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی ایک مسلسل عمل ہے اس میں مشکلات کے باوجود ریاستی ادارے اور عوام مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
آصف زرداری نے اپنے خطاب میں سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو روزانہ بھاشن دینے کی عادت تھی لیکن عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر سیاستدان کا امتحان ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی قید کے دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 14 سال جیل میں گزارے اور جب اپنے بچوں سے ملے تو وہ قد میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب اس شخص کی ہر ٹی وی پر تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہو جاتی تھیں۔ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آ رہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں اور اگر کوئی یہ برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور شعبہ اختیار کرنا چاہیے۔ سیاست ایک ہمہ جہت ذمہ داری ہے جس میں ہر شعبہ شامل ہوتا ہے۔ قیادت کے لیے برداشت، لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکمرانی میں سنجیدگی اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے قومی ترقی کو زرعی شعبے کی مضبوطی سے مشروط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ ملک کی پائیدار ترقی کا انحصار جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کا مستقل حل زراعت میں پوشیدہ ہے ۔ کسانوں کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت پانی کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل کا بہتر انتظام ناگزیر ہے۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ تسلسل اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
صدر زرداری نے مختلف صوبوں کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے کے حالات مختلف ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ اگر ترقی کا عمل رک جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تاکہ عدالتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت انداز میں یاد کریں۔
صدر مملکت نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے ، لہٰذا قومی مفاد میں تمام قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ میں مشکلات
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔