ایپسٹین فائلز سامنے لے آئیں، ٹرمپ انتظامیہ پردہ پوشی کر رہی ہے، ہیلری کلنٹن کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ہلیری کلنٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے معاملے میں ‘پردہ پوشی’ کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام دستاویزات مکمل طور پر منظرِ عام پر لائی جائیں۔
برلن میں سالانہ عالمی فورم کے موقع پر برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا، ‘فائلیں جاری کریں، انہیں جان بوجھ کر سست رفتاری سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اگر کوئی چیز چھپانے کو نہیں تو تمام ریکارڈ بلا تاخیر عوام کے سامنے رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: انیل امبانی کے جیفری ایپسٹین سے رابطوں کے انکشاف پر کانگریس نے سوالات اٹھا دیے
کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کے روبرو پیشی سے متعلق سوال پر ہلیری کلنٹن نے واضح کیا، ‘جس جس کو طلب کیا جائے، اسے گواہی دینی چاہیے۔’ انہوں نے زور دیا کہ سماعت بند کمرے کے بجائے عوامی سطح پر ہونی چاہیے تاکہ ہر چیز کھل کر سامنے آئے۔ ان کے بقول، ‘ہمیں یکساں سلوک چاہیے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں۔ ہم بارہا مکمل فائلوں کے اجرا کا مطالبہ کر چکے ہیں۔’
ہلیری کلنٹن نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ انہیں اور ان کے شوہر کو سیاسی طور پر نشانہ بنا کر اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک ‘چمکتی ہوئی چیز’ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دیگر اہم سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب
وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ہزاروں صفحات جاری کر چکی ہے اور مزید تحقیقات کے لیے تعاون کر رہی ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ انصاف حالیہ دنوں میں مرحوم مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات جاری کر چکا ہے، تاہم مزید ریکارڈ کے اجرا پر سیاسی بحث جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جیفری ایپسٹین ڈونلڈ ٹرمپ محکمہ انصاف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین ڈونلڈ ٹرمپ محکمہ انصاف جیفری ایپسٹین
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔