Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:05:19 GMT

کشمیر کے بیٹے ڈاکٹر فاروق عشائی کی شہادت کو 33 برس مکمل

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

کشمیر کے بیٹے ڈاکٹر فاروق عشائی کی شہادت کو 33 برس مکمل

‍‍‍‍‍‍

سرینگر(نیوز ڈیسک)کشمیر کے عظیم فرزند، معروف طبی ماہر اور انسانیت کے خدمت گزار ڈاکٹر فاروق عشائی کی شہادت کو آج 33 برس مکمل ہو گئے۔

18 فروری 1993 کو ڈاکٹر فاروق عشائی کو بھارتی فوج کے اہلکاروں نے سرینگر میں گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ شہادت کے وقت ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر فریدہ عشائی اور ان کی کمسن بیٹی بھی موجود تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ڈاکٹر فاروق عشائی کو شدید زخمی حالت میں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، تاہم انہیں سرجری کے لیے لے جانے والی ایمبولینس کو بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس نے کئی گھنٹوں تک روکے رکھا۔ مسلسل خون بہنے اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

ڈاکٹر فاروق عشائی سرینگر کے بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال کے بانی تھے اور شہادت کے وقت میڈیکل کالج سرینگر میں چیف آرتھوپیڈک سرجن اور شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

انہیں کشمیر میں آرتھوپیڈکس کے شعبے کا بانی قرار دیا جاتا ہے اور وہ عوام میں “فادر آف آرتھوپیڈکس” کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے نہ صرف طبی میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں بلکہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے کشمیری شہریوں کے علاج اور ان کی آواز بننے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر فاروق عشائی کی شہادت کو کشمیری عوام آج بھی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت اور انسانیت کی خدمت کی روشن مثال کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی قربانی کشمیری قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
https://mnews.

pk/wp-content/uploads/2026/02/ash.mp4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈاکٹر فاروق عشائی اور ان

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا