رمضان المبارک میں عدالتوں کے نئے دفتری اوقات کار جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)رمضان المبارک کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں نے نئے عدالتی اور دفتری اوقات کار جاری کر دیے۔
چیف جسٹس کی منظوری کے بعد رجسٹرار آفس نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یکم رمضان سے پیر تا جمعرات تک ساڑھے نو سے ساڑھے گیارہ بجے تک کیسز کی سماعت ہوگی جبکہ ساڑھے گیارہ سے12 بجے تک عدالتی وقفہ کیاجائے گا۔
12 سے ڈیڑھ بجے تک دوبارہ کیسز کی سماعت کی جائے گی، جمعہ کے روزساڑھے نو سے ساڑھے گیارہ بجے تک کیسز کی سماعت کی جائے گی اور پیرسے جمعرات تک دفتری اوقات کار9 سے اڑھائی بجے تک ہوں گے۔
نوٹیفیکیشن میں مزید بتایا گیا جمعہ کےروز دفتری اوقات کار 9 سے12 بجے تک ہوں گے جبکہ ماتحت عدالتوں میں 9 سے اڑھائی بجے تک کیسز کی سماعت ہوگی۔
جمعہ کے روز ماتحت عدالتوں میں 9 سے12 بجے تک کیسز کی سماعت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بجے تک کیسز کی سماعت
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔