خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی بہنوں سے بار بار درخواست کی کہ عمران خان کو باہر آنے دیا جائے لیکن انہیں بتایا جاتا رہا کہ ملک بھر سے لاکھوں افراد احتجاج کے لیے تیار ہیں۔

گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کی تینوں بہنوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گزارش کی کہ آپس کی لڑائی ختم کی جائے اور عمران خان کو باہر آنے دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہانیاں نہ بنائیں کہ کروڑوں لوگ تیار کھڑے ہیں، یہ کہانیاں نہ بنائیں کہ لوگ انقلاب لے آئے ہیں اور خود آنا چاہتے ہیں، خدا کے لیے اسے باہر آنے دو، وہ باہر آئے گا تو چیزیں ٹھیک کر دے گا۔

گنڈا پور کا کہنا ہے عمران کی بہنوں کے آگے ہاتھ جوڑے کہ عمران کو باہر آنے دو اس کا کہنا باہر چند لوگ نہی آتے مگر بہنیں اندر بتاتیں کہ لاکھوں لوگ تیار ہیں اس کا کہنا علیمہ نے بیس دفعہ کال دی کہ دس ہزار بندے آئیں کیا دس ہزار بندے آئے ؟
اتنی سچی باتیں ???? pic.

twitter.com/TOEhM49h7v

— RAShahzaddk (@RShahzaddk) February 17, 2026

انہوں نے بتایا کہ علیمہ خان کی جانب سے تقریباً بیس مرتبہ فون کر کے کہا گیا کہ کم از کم دس ہزار افراد کو جمع کیا جائے لیکن عملی طور پر اتنے لوگ موجود نہ تھے۔ گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر منتیں کیں لیکن سچائی نہیں بتائی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس دن عمران خان باہر آگیا اس پارٹی میں کچھ لوگ عمران خان کے قریب بھی نظر نہیں آئیں گے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے اس معاملے پر متضاد ردعمل ظاہر کیا۔ کچھ صارفین نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے آج سچ بولا جبکہ دیگر نے ان پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ یہ بیان پی ٹی آئی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔

پھر سے لانچ کر دیا ہے اس کو

— YOUSAF KHAN (@Yousaf69039777) February 18, 2026

طلحہ ندیم نامی صارف نے لکھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سچ سننے کو تیار نہیں اور جو شخص سچ بولتا ہے وہ اکیلا رہ جاتا ہے جیسا کہ شیر افضل مروت اور اب علی امین گنڈاپور۔

پی ٹی آئی کے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ وہ سچ سننے کو تیار نہیں۔ جو سچ بولتا ہے وہ اکیلا رہ جاتا ہے جیسا کہ شیر افضل مروت اور اب گنڈاپور ۔۔۔

— Talha Nadeem (@realtalhanadeem) February 17, 2026

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو کرسی چھوڑنے کے بعد ہی سچ کیوں یاد آتا ہے۔

سیاست دانوں کو کرسی چھوڑنے کے بعد ہی سچ کیوں یاد آتا ہے

— Rashid Malik (@RashidMali6289) February 17, 2026

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی پی ٹی آئی احتجاج پی ٹی آئی دھرنا علی امین گنڈا پور علیمہ خان عمران خان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی احتجاج پی ٹی ا ئی دھرنا علی امین گنڈا پور علیمہ خان علی امین گنڈاپور گنڈاپور نے پی ٹی ا ئی باہر آنے انہوں نے کا کہنا کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا